حدیث نمبر: 16189
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
قَالَ: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ، فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: الْمُعْنِقُ، أَعْنَقَ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَأَطَاعُوهُ فَاتَّبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ
ترجمہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ملاعب الاسنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر آیا، تو آپ ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
اس نے کہا: آپ نجد کے لوگوں کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”المُعْنِق“ (تیز چلنے والا) کہا جاتا تھا کیونکہ وہ موت کے وقت تیزی سے آگے بڑھے تھے۔ تو عامر بن طفیل نے ان کے خلاف بنی عامر سے مدد مانگی، مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور ملاعب الاسنہ کی دی ہوئی پناہ توڑنے سے بھی انکار کر دیا۔ تو اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد مانگی، تو انہوں نے اس کی بات مان لی، چنانچہ وہ تقریباً سو تیر انداز آدمیوں کے ساتھ ان کے پیچھے چلا، اور انہیں بئرِ معونہ پر جا لیا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو قتل کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16189
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 71، حدیث 139