حدیث نمبر: 16187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهَا: «مَا هَذِهِ؟» ، قَالَتْ: هَدِيَّةٌ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «أَمْسِكُوا» ، ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: «هَلْ سَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟» ، قَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟، قَالَ: «هَذَاِ الْعَظْمُ» لِسَاقِهَا أَوْ هُوَ فِي يَدَهِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «لِمَ؟» ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْكَاهِلِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجِمُوا، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا»
ترجمہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر پیش کی، تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: یہ ہدیہ ہے - اور وہ ڈر گئی کہ صدقہ نہ کہہ دے - تو آپ ﷺ نے کھایا اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے بھی کھایا، پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”رک جاؤ۔“ پھر اس عورت سے فرمایا: ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟“ اس نے کہا: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ہڈی نے“ - اس کی پنڈلی کی ہڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، یا وہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھی - اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر تم جھوٹے نبی ہو تو لوگ تم سے آرام پا جائیں گے، اور اگر تم سچے نبی ہو تو یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تو نبی کریم ﷺ نے کاہل (کندھے کے پاس) پچھنے لگوائے، اور اپنے ساتھیوں کو بھی پچھنے لگوانے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے پچھنے لگوائے، مگر ان میں سے کچھ لوگ فوت ہو گئے۔ زہری کہتے ہیں: ”اس عورت نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوگوں نے ذکر کیا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16187
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 70، حدیث 137