حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: «عِيَاضُ بْنُ حِمَارِ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ نَاجِيَةَ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ مُجَاشِعٍ»
ترجمہ
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ کہتے ہیں: ”عیاض بن حمار بن عرفجہ بن ناجیہ بن سفیان بن مجاشع۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «تُعَرَّفُ وَلَا تُغَيَّبُ وَلَا تُكْتَمُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَمَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا اعلان کیا جائے، نہ اسے چھپایا جائے اور نہ پوشیدہ رکھا جائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو ورنہ یہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَا: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ ضَالَّةً فَلْيُشْهِدْ شَاهِدَيْنِ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَاحِبَهُ فَهُوَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی گمشدہ چیز پائے وہ دو عادل گواہ بنا لے اور اسے چھپائے نہیں، اگر اس کا مالک نہ ملے تو یہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي يَوْمِي هَذَا وَإِنَّهُ قَالَ: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ فَأَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِنَّهُمْ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي حَتَّى يَدَعُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَقَدْ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ فِي الْمَنَامِ وَالْيَقَظَةِ، فَاغْزُهُمْ يُعِزَّكَ اللهُ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَمُدَّكَ بِخَمْسَةٍ أَمْثَالِهِمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ غَنِيٌّ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَرَجُلٌ إِنْ أَصْبَحَ أَصْبَحَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَرَجُلٌ لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا ذَهَبَ بِهِ، وَالشِّنْظِيرُ الْفَاحِشُ " قَالَ: وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ ان کے لیے حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے لوگوں کو آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ پس ان سے جنگ کرو، اللہ تمہیں عزت دے گا، اور خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، ہم تمہیں اس کے پانچ گنا کے برابر مدد دیں گے، اور جو تیری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑ جو تیری نافرمانی کرے۔ جنت والے تین طرح کے ہیں: عادل حکمران، ہر قرابت دار اور مسلمان پر مہربان اور نرم دل شخص، اور مالدار، پاک دامن، صدقہ کرنے والا شخص۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے ہیں: کمزور شخص جس میں کوئی زور نہ ہو، جو تم میں تابع ہیں اور نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال، اور وہ شخص جو صبح ہوتے ہی تمہارے گھر والوں اور مال میں خیانت کا سوچتا ہے، اور وہ شخص جس کا لالچ کبھی چھپا نہیں رہتا، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، وہ اسے لے ہی لیتا ہے، اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے بخل اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ ضَالَّةً فَلْيُشْهِدْ شَاهِدَيْنِ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَاحِبَهُ فَهُوَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی گمشدہ چیز پائے وہ دو عادل گواہ بنا لے اور اسے چھپائے نہیں، اگر اس کا مالک نہ ملے تو یہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ وَلْيُعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإلَّا فَهِيَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی لقطہ پائے وہ کسی عادل شخص کو گواہ بنائے، پھر اسے چھپائے نہیں اور نہ پوشیدہ رکھے، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہے، اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ورنہ یہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا فَإِنْ وَجَدْتَ صَاحِبَهَا وَإلَّا فَهِيَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» فَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ فِي حَدِيثِهِ مُطَرِّفًا
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا اعلان کرو، اگر تمہیں اس کا مالک مل جائے تو ٹھیک ورنہ یہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے۔“ ایوب نے اپنی روایت میں مطرف کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ قَالُوا: ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ، أَخُو مُطَرِّفٍ، وَحَدَّثَنِي رَجُلَانِ آخَرَانِ نَسِيَ هَمَّامُ أَسْمَاءَهُمَا، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنَّ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدِي حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَانْتَابَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ يَقْظَانًا وَنَائِمًا، وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ فَسَنُعِزُّكَ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، قَالَ: وَقَالَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُتَصَدِّقٌ، وَقَالَ: أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ: رَجُلٌ لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ ذَرَّ إِلَّا جَانِبَهُ، وَرَجُلٌ لَا يُمْسِي وَلَا يُصْبِحُ إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَالضَّعِيفُ لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَتْبَعُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا " - فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ أَمِنْ الْمَوَالِي هُمْ أَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ - «وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ» قَالَ: وَذَكَرَ الْكَذِبَ وَالْبُخْلَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مُسْلِمٍ
ترجمہ
علاء بن زیاد اور جابر بن یزید رحمہما اللہ، مطرف کے بھائی، اور دو دیگر افراد جن کے نام ہمام کو یاد نہ رہے - یہ سب بیان کرتے ہیں کہ مطرف رحمہ اللہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبے میں یہ فرماتے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم ہو، اس میں سے جو اس نے مجھے آج کے دن سکھایا ہے۔ بے شک ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندے کو عطا کیا وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو (باطل سے کنارہ کش، حق پر) پیدا کیا، پھر شیطان ان کے پاس بار بار آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام ٹھہرا دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور بے شک اللہ عزوجل نے زمین والوں کی طرف نظر ڈالی تو ان سے، عربوں اور عجمیوں، سب سے ناراض ہوا سوائے اہلِ کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگوں کے۔ پھر اس نے فرمایا: اے محمد! میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے دوسروں کو آزماؤں، اور میں نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے جاگتے اور سوتے (ہر حال میں) پڑھتے ہو۔ اور بے شک اللہ نے مجھ پر وحی کی کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! تب تو وہ میرا سر پھوڑ کر اسے روٹی کی طرح چپٹا کر دیں گے۔ اللہ نے فرمایا: انہیں اسی طرح نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، اور ان سے جنگ کرو، ہم عنقریب تمہیں غلبہ عطا کریں گے، اور خرچ کرو، تم پر بھی خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، ہم اس کے پانچ گنا بھیجیں گے، اور جو تمہاری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑو جو تمہاری نافرمانی کرے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت تین طرح کے ہیں: ایک عادل اور کامیاب حکمران، دوسرا ایسا نرم دل رحم کرنے والا شخص جو ہر رشتہ دار اور مسلمان کے ساتھ نرمی رکھتا ہو، اور تیسرا پاکدامن، فقیر، صدقہ کرنے والا شخص۔“ اور فرمایا: ”اہلِ جہنم پانچ طرح کے ہیں: ایک ایسا شخص جس کا لالچ کبھی چھپ نہیں پاتا خواہ وہ معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو، ایک ایسا شخص جو صبح و شام تمہیں تمہارے گھر والوں اور مال کے بارے میں دھوکہ ہی دیتا رہتا ہے، اور ایک ایسا کمزور شخص جس میں کوئی روک ٹوک نہ ہو، یعنی وہ لوگ جو تم میں محض تابع ہیں، نہ گھر بار کے طلب گار ہیں نہ مال کے۔“ ایک شخص نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! کیا وہ موالی میں سے ہیں یا عرب میں سے؟ جواب دیا: یہ وہ تابع (پیچھے لگا رہنے والا) شخص ہے جو کسی آدمی کے ساتھ رہتا ہے، پھر نکاح کے بغیر بدکاری کے ذریعے اس کی حرمت (گھر کی عورتوں) کو پامال کرتا ہے — ”اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر فرمایا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابومسلم کی روایت کے ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابومسلم کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَخُو مُطَرِّفٍ، وَعُقْبَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ
علاء بن زیاد، یزید بن عبداللہ (مطرف کے بھائی)، عقبہ اور ایک اور شخص رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں کہ مطرف رحمہ اللہ نے انہیں سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا خطبہ سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے۔“ پھر راوی نے اسی جیسی مکمل حدیث بیان کی جو اس سے پہلے مذکور ہو چکی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " إنََّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي فِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، ثُمَّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، وإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَيُنْفَقُ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا أَبْعَثْ مَعَهُ خَمْسَةً مِثْلَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا۔ ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر اللہ عزوجل نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے، اور فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کے پاس جاؤں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ فرمایا: انہیں ایسے نکال دو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، ان سے جنگ کرو، ہم تمہاری مدد کریں گے، اور خرچ کرو، تم پر بھی خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، میں اس کے ساتھ اس کے پانچ گنا کے برابر بھیجوں گا۔“ راوی نے آگے حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَوْفٍ، ح قَالَ أَسْلَمُ: وَحَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ثَنَا عِيَاضُ بْنُ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ حَلَالٌ لَهُمْ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَبْعَثَنِي فَمَقَتَهُمْ كُلَّهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّ اللهَ قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَذَرُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: أَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ فَسَنُغْزِكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنَ عَصَاكَ، وَقَالَ: أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ غَنِيٌّ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ وَالَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَرَجُلٌ إِذَا أَصْبَحَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَرَجُلٌ لَا يُخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إلَّا ذَهَبَ بِهِ، وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ " وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبے میں فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا۔ سن لو! ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ ان کے لیے حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، اور شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور اللہ نے مجھے بھیجے جانے سے پہلے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے، اور اللہ نے فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ اور اللہ نے مجھ پر وحی کی کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ فرمایا: انہیں ایسے نکال دو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، ان سے جنگ کرو، ہم تمہاری مدد کریں گے، اور لشکر بھیجو، ہم اس کے پانچ گنا کے برابر بھیجیں گے، اور خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا، اور جو تیری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑ جو تیری نافرمانی کرے۔“ اور فرمایا: ”جنت والے تین طرح کے ہیں: عادل حکمران، ہر قرابت دار اور مسلمان پر مہربان اور نرم دل شخص، اور مالدار، پاک دامن، صدقہ کرنے والا شخص۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے ہیں: کمزور شخص جس میں کوئی زور نہ ہو، اور وہ جو تم میں تابع ہیں اور نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال، اور وہ شخص جو صبح ہوتے ہی تمہارے گھر والوں اور مال میں خیانت کا سوچتا ہے، اور وہ شخص جس کا لالچ کبھی نہیں چھپتا چاہے وہ کتنا ہی معمولی ہو، وہ اسے لے ہی لیتا ہے، اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے بخل اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متوية الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا: " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ فِي الْكِتَابِ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ وَبَنِيهِ حُنَفَاءَ مُسْلِمِينَ، فَأَعْطَاهُمُ الْمَالَ حَلَالًا لَا حَرَامَ فِيهِ، وَعَبَدُوا الطَّوَاغِيتَ، وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُمْ، فَأُبَيِّنُ لَهُمْ الَّذِي جَبَلَهُمْ عَلَيْهِ، فَخَاطَبْتُ رَبِّي: إِنْ أَتَيْتُهُمْ ثَلَغَتْ قُرَيْشٌ رَأْسِي كَمَا تَثْلَغُ الْخُبْزَةَ، فَقَالَ لِي: امْضِ أُمْضِكَ، وَأَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَاتِلْ مَنْ عَصَاكَ بِمَنْ أَطَاعَكَ، فَإِنِّي سَأُعْطِي مَعَ كُلِّ جَيْشٍ تَبْعَثُهُ عَشَرَةً أَمْثَالَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، وَنَافِخٌ فِي صُدُورِ عَدُوِّكَ الرُّعْبَ، وَنُعْطِيكَ كِتَابًا لَا يَمْحُوهُ الْمَاءُ أُذَكِّرُكَهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، فَأَبْصِرُونِي وَقُرَيْشًا وَقُرَيْشًا هَذِهِ، فَإِنَّهُمْ دَمُّوا وَجْهِي وَسَلَبُونِي أَهْلِي، وَأَنَا مُبَادِئُهُمْ، فَإِنْ أَغْلِبْهُمْ يَأْتُوا مَا دَعَوْتُهُمْ إِلَيْهِ طَائِعِينَ أَوْ كَارِهِينَ، وَإِنْ يَغْلِبُونِي فَإِنِّي كُنْتُ عَلَى شَيْءٍ أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں جو اللہ عزوجل نے مجھے کتاب میں بتایا؟ اللہ عزوجل نے آدم اور ان کی اولاد کو یکسو، مسلمان پیدا کیا، اور انہیں حلال مال عطا کیا جس میں کوئی حرمت نہ تھی، مگر انہوں نے طاغوتوں کی عبادت کی، اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کے پاس آؤں اور انہیں وہ بتاؤں جس پر وہ پیدا کیے گئے تھے۔ میں نے اپنے رب سے عرض کیا: اگر میں ان کے پاس گیا تو قریش میرا سر پھوڑ دیں گے جیسے روٹی توڑی جاتی ہے۔ اللہ نے مجھ سے فرمایا: چلو، میں تمہیں کامیاب چلاؤں گا، خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا، اور جو تیری نافرمانی کرے اس سے اس کے ذریعے لڑو جو تیری اطاعت کرے، میں ہر لشکر کے ساتھ جو تم بھیجو گے اس کے دس گنا فرشتے بھیجوں گا، اور تمہارے دشمن کے سینوں میں رعب پھونکوں گا، اور ہم تمہیں ایک ایسی کتاب دیں گے جسے پانی نہیں مٹا سکتا، جسے میں تمہیں سوتے اور جاگتے یاد دلاتا رہوں گا۔ چنانچہ مجھے اور قریش کو دیکھو، یہ قریش، انہوں نے میرا چہرہ خون آلود کر دیا اور میرے گھر والوں کو مجھ سے چھین لیا، اور میں ان سے جنگ کی ابتدا کرنے والا ہوں، اگر میں انہیں مغلوب کر لوں تو وہ اسی چیز کی طرف آئیں گے جس کی طرف میں نے انہیں بلایا، چاہے خوشی سے یا ناخوشی سے، اور اگر وہ مجھ پر غالب آ جائیں تو بھی میں ایک حق بات پر تھا جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا تھا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِِ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ جَاءَ بِنَاقَةٍ وَرَاحِلَةٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُدْهَا» فَقَادَهَا، فَنَادَاهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عِيَاضُ بْنَ حِمَارٍ، أَسْلَمْتَ؟» فَقَالَ: لَا، قَالَ: «دُونَكَ نَاقَتَكَ فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْنَا زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اونٹنی اور سواری لے کر آئے اور اسے ہدیہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے چلو۔“ چنانچہ وہ اسے لے کر چلے۔ نبی اللہ ﷺ نے انہیں پکارا: ”اے عیاض بن حمار! کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی اونٹنی اپنے پاس ہی رکھو، کیونکہ اللہ نے ہم پر مشرکوں کا نذرانہ حرام کر دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَدَوِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ، أَخِي مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً أَوْ بَدَنَةً فَقَالَ: «أَسْلَمْتَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک اونٹنی یا قربانی کا جانور ہدیہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مشرکوں کا نذرانہ لینے سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالُوا: ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا لَا يَفْخَرْ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَبْغيِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم عاجزی اختیار کرو، کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ بَأْسٍ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ مُتَهاتِرَانِ وَمُتَكاذِبَانِ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری قوم کا ایک آدمی مجھے گالی دیتا ہے، کیا مجھ پر اس سے بدلہ لینے میں کوئی حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گالی گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں، ایک دوسرے کو طعنے دینے والے اور جھوٹ بولنے والے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ مُتَكاذِبَانِ وَمُتَهاتِرَانِ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گالی گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں، جھوٹ بولنے والے اور ایک دوسرے کو طعنے دینے والے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا عِمْرَانُ بْنُ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ إِلَّا أَنْ يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”گالی گلوچ کرنے والے دونوں نے جو کچھ کہا اس کا گناہ شروع کرنے والے پر ہے، سوائے اس کے کہ مظلوم زیادتی کر جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ»
ترجمہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گالی گلوچ کرنے والے دونوں نے جو کچھ کہا اس کا گناہ شروع کرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔“