❮
❯
حدیث نمبر: 15062
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ قَالُوا: ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ، أَخُو مُطَرِّفٍ، وَحَدَّثَنِي رَجُلَانِ آخَرَانِ نَسِيَ هَمَّامُ أَسْمَاءَهُمَا، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنَّ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدِي حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَانْتَابَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ يَقْظَانًا وَنَائِمًا، وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ فَسَنُعِزُّكَ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، قَالَ: وَقَالَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُتَصَدِّقٌ، وَقَالَ: أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ: رَجُلٌ لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ ذَرَّ إِلَّا جَانِبَهُ، وَرَجُلٌ لَا يُمْسِي وَلَا يُصْبِحُ إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَالضَّعِيفُ لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَتْبَعُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا " - فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ أَمِنْ الْمَوَالِي هُمْ أَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ - «وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ» قَالَ: وَذَكَرَ الْكَذِبَ وَالْبُخْلَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مُسْلِمٍ
ترجمہ

علاء بن زیاد اور جابر بن یزید رحمہما اللہ، مطرف کے بھائی، اور دو دیگر افراد جن کے نام ہمام کو یاد نہ رہے - یہ سب بیان کرتے ہیں کہ مطرف رحمہ اللہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبے میں یہ فرماتے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم ہو، اس میں سے جو اس نے مجھے آج کے دن سکھایا ہے۔ بے شک ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندے کو عطا کیا وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو (باطل سے کنارہ کش، حق پر) پیدا کیا، پھر شیطان ان کے پاس بار بار آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام ٹھہرا دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور بے شک اللہ عزوجل نے زمین والوں کی طرف نظر ڈالی تو ان سے، عربوں اور عجمیوں، سب سے ناراض ہوا سوائے اہلِ کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگوں کے۔ پھر اس نے فرمایا: اے محمد! میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے دوسروں کو آزماؤں، اور میں نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے جاگتے اور سوتے (ہر حال میں) پڑھتے ہو۔ اور بے شک اللہ نے مجھ پر وحی کی کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! تب تو وہ میرا سر پھوڑ کر اسے روٹی کی طرح چپٹا کر دیں گے۔ اللہ نے فرمایا: انہیں اسی طرح نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، اور ان سے جنگ کرو، ہم عنقریب تمہیں غلبہ عطا کریں گے، اور خرچ کرو، تم پر بھی خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، ہم اس کے پانچ گنا بھیجیں گے، اور جو تمہاری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑو جو تمہاری نافرمانی کرے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت تین طرح کے ہیں: ایک عادل اور کامیاب حکمران، دوسرا ایسا نرم دل رحم کرنے والا شخص جو ہر رشتہ دار اور مسلمان کے ساتھ نرمی رکھتا ہو، اور تیسرا پاکدامن، فقیر، صدقہ کرنے والا شخص۔“ اور فرمایا: ”اہلِ جہنم پانچ طرح کے ہیں: ایک ایسا شخص جس کا لالچ کبھی چھپ نہیں پاتا خواہ وہ معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو، ایک ایسا شخص جو صبح و شام تمہیں تمہارے گھر والوں اور مال کے بارے میں دھوکہ ہی دیتا رہتا ہے، اور ایک ایسا کمزور شخص جس میں کوئی روک ٹوک نہ ہو، یعنی وہ لوگ جو تم میں محض تابع ہیں، نہ گھر بار کے طلب گار ہیں نہ مال کے۔“ ایک شخص نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! کیا وہ موالی میں سے ہیں یا عرب میں سے؟ جواب دیا: یہ وہ تابع (پیچھے لگا رہنے والا) شخص ہے جو کسی آدمی کے ساتھ رہتا ہے، پھر نکاح کے بغیر بدکاری کے ذریعے اس کی حرمت (گھر کی عورتوں) کو پامال کرتا ہے — ”اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر فرمایا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابومسلم کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15062
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 360، حدیث 992