حدیث نمبر: 15065
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " إنََّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي فِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، ثُمَّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، وإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَيُنْفَقُ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا أَبْعَثْ مَعَهُ خَمْسَةً مِثْلَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا۔ ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر اللہ عزوجل نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے، اور فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کے پاس جاؤں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ فرمایا: انہیں ایسے نکال دو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، ان سے جنگ کرو، ہم تمہاری مدد کریں گے، اور خرچ کرو، تم پر بھی خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، میں اس کے ساتھ اس کے پانچ گنا کے برابر بھیجوں گا۔“ راوی نے آگے حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15065
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 361، حدیث 995