المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نسبته باب: سیدنا عقبہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نسب
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلِّمَنِي يَوْمِي هَذَا وَإِنَّهُ قَالَ: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ فَأَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِنَّهُمْ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي حَتَّى يَدَعُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَقَدْ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ فِي الْمَنَامِ وَالْيَقَظَةِ، فَاغْزُهُمْ يُعِزَّكَ اللهُ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَمُدَّكَ بِخَمْسَةٍ أَمْثَالِهِمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ غَنِيٌّ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَرَجُلٌ إِنْ أَصْبَحَ أَصْبَحَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَرَجُلٌ لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا ذَهَبَ بِهِ، وَالشِّنْظِيرُ الْفَاحِشُ " قَالَ: وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَسیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ ان کے لیے حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے لوگوں کو آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ پس ان سے جنگ کرو، اللہ تمہیں عزت دے گا، اور خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا، اور لشکر بھیجو، ہم تمہیں اس کے پانچ گنا کے برابر مدد دیں گے، اور جو تیری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑ جو تیری نافرمانی کرے۔ جنت والے تین طرح کے ہیں: عادل حکمران، ہر قرابت دار اور مسلمان پر مہربان اور نرم دل شخص، اور مالدار، پاک دامن، صدقہ کرنے والا شخص۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے ہیں: کمزور شخص جس میں کوئی زور نہ ہو، جو تم میں تابع ہیں اور نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال، اور وہ شخص جو صبح ہوتے ہی تمہارے گھر والوں اور مال میں خیانت کا سوچتا ہے، اور وہ شخص جس کا لالچ کبھی چھپا نہیں رہتا، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، وہ اسے لے ہی لیتا ہے، اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے بخل اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔