حدیث نمبر: 15066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَوْفٍ، ح قَالَ أَسْلَمُ: وَحَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ثَنَا عِيَاضُ بْنُ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ حَلَالٌ لَهُمْ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَبْعَثَنِي فَمَقَتَهُمْ كُلَّهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّ اللهَ قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَغْزُوَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَذَرُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: أَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ فَسَنُغْزِكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنَ عَصَاكَ، وَقَالَ: أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ غَنِيٌّ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ وَالَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَرَجُلٌ إِذَا أَصْبَحَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَرَجُلٌ لَا يُخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إلَّا ذَهَبَ بِهِ، وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ " وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ
ترجمہ

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبے میں فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں جس سے تم لاعلم تھے، جو مجھے آج کے دن سکھایا گیا۔ سن لو! ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کیا وہ ان کے لیے حلال ہے، اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا، اور شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے بھٹکا دیا، اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا وہ ان پر حرام کر دیا، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ اسے شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اور اللہ نے مجھے بھیجے جانے سے پہلے اہل زمین کی طرف نظر کی تو عربوں اور عجمیوں سب پر ناراض ہوا سوائے اہل کتاب کے کچھ بچ رہنے والوں کے، اور اللہ نے فرمایا: میں نے تمہیں اسی لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے آزماؤں، اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تم اسے نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں پڑھتے ہو۔ اور اللہ نے مجھ پر وحی کی کہ میں قریش سے جنگ کروں، تو میں نے عرض کیا: اے میرے رب! وہ تو میرا سر پھوڑ کر روٹی کی طرح کر دیں گے۔ فرمایا: انہیں ایسے نکال دو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا، ان سے جنگ کرو، ہم تمہاری مدد کریں گے، اور لشکر بھیجو، ہم اس کے پانچ گنا کے برابر بھیجیں گے، اور خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا، اور جو تیری اطاعت کرے اس کے ذریعے اس سے لڑ جو تیری نافرمانی کرے۔“ اور فرمایا: ”جنت والے تین طرح کے ہیں: عادل حکمران، ہر قرابت دار اور مسلمان پر مہربان اور نرم دل شخص، اور مالدار، پاک دامن، صدقہ کرنے والا شخص۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے ہیں: کمزور شخص جس میں کوئی زور نہ ہو، اور وہ جو تم میں تابع ہیں اور نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال، اور وہ شخص جو صبح ہوتے ہی تمہارے گھر والوں اور مال میں خیانت کا سوچتا ہے، اور وہ شخص جس کا لالچ کبھی نہیں چھپتا چاہے وہ کتنا ہی معمولی ہو، وہ اسے لے ہی لیتا ہے، اور بدزبان، بدکلام شخص۔“ راوی کہتے ہیں: اور آپ ﷺ نے بخل اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15066
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 362، حدیث 996