حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْيَزِيدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، كَاتِبُ الْوَاقِدِيِّ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: عِيَاضُ بْنُ غَنْمِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي شَدَّادِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرِ، أَسْلَمَ عِيَاضٌ قَدِيمًا قَبْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَشَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ بِالشَّامِ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ أَبَا عُبَيْدَةَ الْوَفَاةُ وَلَّى أَبُو عُبَيْدَةَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ، فَأَقَرَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى عَمَلِهِ حَتَّى مَاتَ، وَكَانَ عِيَاضٌ رَجُلًا صَالِحًا سَمْحًا، مَاتَ يَوْمَ مَاتَ وَمَا لَهُ مَالٌ، وَلَا عَلَيْهِ دَيْنٌ لِأَحَدٍ، وَتُوُفِّيَ بِالشَّامِ سَنَةَ عِشْرِينَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ "
ترجمہ
واقدی کہتے ہیں: عیاض بن غنم بن زہیر بن ابی شداد بن ربیعہ بن ہلال بن ضبہ بن حارث بن فہر۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، اور حدیبیہ میں شریک ہوئے، وہ شام میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ جب سیدنا ابوعبیدہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے سیدنا عیاض بن غنم کو اپنے عہدے پر مقرر کر دیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی عہدے پر برقرار رکھا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نیک اور سخی آدمی تھے، جس دن ان کی وفات ہوئی تو نہ ان کے پاس کوئی مال تھا اور نہ کسی کا قرض ان کے ذمے تھا۔ وہ شام میں سن بیس ہجری میں ساٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَاسْتَخْلَفَ ابْنَ عَمِّهِ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ الْفِهْرِيَّ»
ترجمہ
زہری کہتے ہیں: ”سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عیاض بن غنم فہری رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔“