کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ سال تک وحی وصول کرتے رہے، اور مدینہ میں دس سال مقیم رہے، اور آپ ﷺ کی وفات تریسٹھ برس کی عمر میں ہوئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12888
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 220، حدیث 12944
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ تَمَامٍ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مِنْ إِكْفَاءِ الدِّينِ تَصَفُّحُ النَّبَطِ، وَاتِّخَاذُهُمُ الْقُصُورَ فِي الْأَمْصَارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو فرما رہے تھے: ”دین کے الٹ جانے میں سے یہ ہے کہ نبطی (معاملات کی) چھان بین کرنے لگیں، اور وہ شہروں میں محلات بنا لیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12889
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 221، حدیث 12945
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پگڑیاں باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم (بردباری) میں اضافہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12890
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 221، حدیث 12946
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ وَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ , فَقَالَ: «أَمَا إِنِّي لَوْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ» ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْجُلَنْدَى يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلَهُ، وَأَسْلَمَ، وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَقَدِمَتْ وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مَوْرِثًا فَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ، وَبَيْنَ النَّاسِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلے کو خط لکھا جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی، تو انہوں نے خط قبول نہیں کیا اور (قاصد) نبی کریم ﷺ کے پاس لوٹ آئے اور آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اگر میں یہ خط عمان کے ساحل پر آباد ازد شنوءہ اور اسلم کی قوم کے پاس بھیجتا تو وہ اسے ضرور قبول کرتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے جلندیٰ کے پاس قاصد بھیجا اور اسے اسلام کی دعوت دی، تو اس نے اسے قبول کیا اور مسلمان ہو گیا، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ بھیجا، تو وہ اس وقت پہنچا جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس ہدیے کو ترکہ قرار دیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12891
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 221، حدیث 12947
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْبَعُمِائَةٍ مِنْ دَوْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرْحَبًا أَحْسَنَ النَّاسِ وُجُوهًا، وَأَطْيَبَهُمْ أَفْوَاهًا، وَأَعْظَمَهُمْ أَمَانَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قبیلہ دوس کے چار سو افراد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید، سب سے خوبصورت چہروں والے، سب سے خوشبودار منہ والے، اور سب سے بڑھ کر امانت دار لوگو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12892
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 222، حدیث 12948
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ: وَأَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، وَلَا النَّادِمِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَإِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ تَدْعُو إِلَيْهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ - قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ وَالْمُقَيَّرِ - احْفَظُوهُنَّ، وَادْعُوا إِلَيْهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب وفدِ عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ کا قبیلہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید اس وفد کو جو نہ ذلیل ہوا اور نہ نادم ہوگا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں اور ہم آپ کے پاس ایک دور دراز راستے سے آتے ہیں، اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے، اور ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ تک پہنچ سکتے ہیں، تو آپ ہمیں کوئی واضح حکم دیجیے جس کی آپ دعوت دیتے ہیں، اور ہم اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں، اور اس کے ذریعے جنت میں داخل ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں: اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ کیا تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اللہ کے سوا کوئی معبود نہ ہونے کی گواہی، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اور یہ کہ تم مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔ اور میں تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: دباء، حنتم، نقیر، اور مزفت - اور بعض اوقات ’مقیر‘ بھی فرماتے - انہیں یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بھی ان کی دعوت دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12893
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 222، حدیث 12949
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ , فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - وَعَقَدَ بِيَدِهِ -، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وفدِ عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ربیعہ کا یہ قبیلہ، کفارِ مضر ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہیں، تو ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، آپ ہمیں کوئی حکم دیجیے جسے ہم اپنائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: اللہ پر ایمان لانا - اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں - اور آپ ﷺ نے ہاتھ سے گرہ لگا کر (گن کر) بتایا - نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اور یہ کہ جو مالِ غنیمت پاؤ اس کا خمس ادا کرو۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12894
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 223، حدیث 12950
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دباء، مزفت، نقیر اور حنتم سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12895
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 223، حدیث 12951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَنْتَهِي إِلَيْهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ، وَأَرْبَعٌ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَخُمُسُ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ نَبِيذِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وفدِ عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو ہمیں کوئی ایسا حکم دیجیے جس پر ہم کاربند رہیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار باتیں، اور چار: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اور جو مالِ غنیمت پاؤ اس کا خمس ادا کرنا۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کی نبیذ سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12896
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 224، حدیث 12952
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا هَذَا الْحَيُّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ , فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ وَفَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وفدِ عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کا یہ قبیلہ ہیں، کفارِ مضر ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہو گئے ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو آپ ہمیں کوئی حکم دیجیے جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: ایمان“ - اور آپ ﷺ نے اسے ان کے لیے واضح کرتے ہوئے فرمایا - ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور یہ کہ تم مالِ غنیمت کا خمس ادا کرو۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12897
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 224، حدیث 12953
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید اے وفد۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، اور کفارِ مضر ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو آپ ہمیں کوئی حکم دیجیے جسے ہم اپنائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: اللہ پر ایمان - اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں -، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور یہ کہ جو مالِ غنیمت پاؤ اس کا خمس ادا کرو۔ اور میں تمہیں دباء، نقیر، حنتم اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12898
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 224، حدیث 12954
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ كُلَّمَا شِئْنَا، فَأَنْبِئْنَا مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں، اور ہم جب چاہیں آپ کے پاس نہیں آ سکتے، تو ہمیں بتا دیجیے کہ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور مالِ غنیمت میں سے خمس دو۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12899
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 225، حدیث 12955
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ , فَمُرْنَا بِمَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا. قَالَ: «آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینے ہی میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو ہمیں بتا دیجیے کہ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور ہم پر کیا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں اس بات کی گواہی دینے کا حکم دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، رمضان کے روزے رکھنے، اور جو مالِ غنیمت پاؤ اس میں سے خمس دینے کا۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12900
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 225، حدیث 12956
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ بِالْمَدِينَةِ جُمُعَةٌ بِالْبَحْرَيْنِ فِي قَرْيَةٍ لِعَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهَا جُوَاثَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”مدینہ کی جمعہ کے بعد سب سے پہلا جمعہ جو قائم کیا گیا وہ بحرین میں، عبدالقیس کی ایک بستی میں تھا جسے جواثیٰ کہا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12901
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 226، حدیث 12957
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ جُمُعَةُ جُوَاثَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”سب سے پہلا جمعہ مدینہ میں قائم کیا گیا، پھر اس کے بعد جواثیٰ کا جمعہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12902
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 226، حدیث 12958
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ بُدُوِّ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ بَعَثَ أَخَاهُ , فَقَالَ: ائْتِ مَكَّةَ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْهُ، وَتَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِ، فَانْطَلَقَ أَخُوهُ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعَ مِنْ نَبَأِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَيَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي , ثُمَّ أَخَذَ شَنَّةً فِيهَا مَاءٌ، وَإِدَاوَةٌ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَفَرِقَ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، عَنْ شَيْءٍ، وَلَمْ يَلْقَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَنَّهُ اللَّيْلُ فَلَمَّا أَعْتَمَ مَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ غِفَارٍ فَانْطَلِقْ إِلَى مَنْزِلِكَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا فَلَمْ يَلْقَهُ، فَقَامَ نَاحِيَةً فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: أَمَا آنَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْرِفَ مَنْزِلَهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ لَا يَسْأَلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذَ عَلَى عَلِيٍّ لَئِنْ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي يُرِيدُ لَيَكْتِمَنَّ عَلَيْهِ وَلَيَسْتُرَنَّ عَنْهُ، فَفَعَلَ، فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ ليَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَبَعَثْتُ بِأَخِي فَلَمْ يَأْتِنِي بِمَا يَشْفِينِي، فَجِئْتُ بِنَفْسِي لِأُخْبِرَ خَبَرَهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ مِنْهُ قُمْتُ كَأَنِّي أَبُولُ، وَرَجَعْتُ إِلَيْكَ، وَإِنْ لَمْ أَرَ شَيْئًا فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَغَدَا عَلِيٌّ، وَغَدَا أَبُو ذَرٍّ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ، وَسَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَسْلَمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , مُرْنِي بِأَمْرِكَ، قَالَ: «ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يَبْلُغَكَ خَبَرِي» ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ لَا رَجَعْتُ حَتَّى أَصْرُخَ بِالْإِسْلَامِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: صَبَأَ الرَّجُلُ صَبَأَ الرَّجُلُ، فضَرَبُوهُ حَتَّى سَقَطَ، فَمَرَّ بِهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْتُمْ تُجَّارٌ، وَطَرِيقُكُمْ عَلَى غِفَارٍ، تُرِيدُونَ أَنْ نَقْطَعَ الطَّرِيقَ عَنْكُمْ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي عَادَ لِمِثْلِ مَقَالَتِهِ فَضَرَبُوهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَهَذَا كَانُ بُدُوُّ الْإِسْلَامِ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے آغاز کا واقعہ بیان کیا، فرمایا: جب انہیں (ابوذر کو) یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص نکلا ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا اور کہا: مکہ جاؤ، اس سے سنو، اور مجھے اس کی خبر لا کر دو۔ چنانچہ ان کا بھائی مکہ گیا، نبی کریم ﷺ کی خبر سنی، اور ابوذر کے پاس واپس آیا تو انہیں بتایا کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ ابوذر نے کہا: تم نے میری تسلی نہیں کی۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک مشکیزہ اور ایک برتن لیا اور روانہ ہو گئے یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ وہاں انہیں کسی سے کچھ پوچھنے میں ڈر محسوس ہوا، اور رات ہو جانے تک رسول اللہ ﷺ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جب رات گہری ہوئی تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ ابوذر نے کہا: غفار قبیلے کا ایک آدمی۔ (علی رضی اللہ عنہ نے کہا:) چلو اپنے گھر چلتے ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے، اور دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے کچھ نہ پوچھا۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر نکلے تاکہ رسول اللہ ﷺ سے ملیں مگر ملاقات نہ ہو سکی، تو وہ مسجد کے ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پھر وہاں سے گزر ہوا تو کہا: کیا اس شخص کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنا ٹھکانہ پہچان لے؟ چنانچہ وہ اسے پھر لے گئے اور دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے کچھ نہ پوچھا۔ جب تیسرا دن ہوا تو ابوذر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وعدہ لیا کہ اگر وہ انہیں ان کا مقصد بتا دیں تو وہ اسے چھپائیں گے اور راز میں رکھیں گے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، تو ابوذر نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ مکہ میں ایک شخص نکلا ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی کو بھیجا مگر وہ میری تسلی کے لیے کچھ نہ لا سکا، اس لیے میں خود آیا ہوں تاکہ اس کی خبر معلوم کروں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پیچھے پیچھے چلو، اگر مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں رک کر پیشاب کرنے کا بہانہ کروں گا اور تمہارے پاس واپس آ جاؤں گا، اور اگر کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا تو میرے پیچھے چلتے رہنا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ابوذر ان کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اپنا حال بتایا، اور رسول اللہ ﷺ سے سنا، تو وہ مسلمان ہو گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا حکم دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میری خبر تمہیں پہنچے۔“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں لوٹوں گا جب تک اسلام کا اعلان نہ کر دوں۔ چنانچہ وہ مسجد کی طرف نکلے اور بلند آواز سے پکارا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر مشرکین نے کہا: یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! اور اسے مارا یہاں تک کہ وہ گر پڑے۔ اتنے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو ان پر جھک گئے، پھر کہا: اے گروہِ قریش! تم تاجر ہو، اور تمہارا راستہ غفار کے علاقے سے ہو کر جاتا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارا راستہ بند کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی، تو انہیں دوبارہ مارا، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور انہیں وہی بات کہی تو انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی ابتدا تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12903
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 226، حدیث 12959
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرِ بْنِ طَهْمَانَ الْوَرَّاقِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12904
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 228، حدیث 12960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي ثَلَاثٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ، فَقَالَ: دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " فَعِنْدَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس ذوالقعدہ کی تین باقی راتوں میں آئے اور کہا: عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔“ اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے بعد میں معلوم ہونے والی بات پہلے ہی معلوم ہو جاتی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12905
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 228، حدیث 12961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَأَمَرَنِي بِهَا فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ قَائِلًا يَقُولُ: حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
ابو جمرہ بیان کرتے ہیں: میں نے تمتع کیا تو کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا، تو میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے اس کا حکم دیا۔ پھر میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے: ”حج مقبول، اور عمرہ قبول شدہ۔“ میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ اکبر! یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے“ - یا فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12906
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 228، حدیث 12962
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «أُدْخِلَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ»
ترجمہ
ابو جمرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: ”نبی کریم ﷺ کی قبر میں ایک سرخ کملی رکھی گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12907
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 228، حدیث 12963
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
ترجمہ
ابو جمرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12908
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 229، حدیث 12964
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يُرَخِّصُ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ: «إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ وَبِالنَّاسِ حَاجَةٌ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ» فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَدَقْتَ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ابو جمرہ سے پوچھا: کیا تم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو متعۃ النساء کے بارے میں کچھ کہتے سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے انہیں اس کی رخصت دیتے سنا۔ اس پر ان کے ایک غلام نے ان سے کہا: متعہ تو اس وقت تھا جب لوگوں کو ضرورت تھی اور عورتوں کی کمی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12909
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 229، حدیث 12965
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْمُسَاوِرِ الْعَتَكِيُّ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا تَطْلُبَنَّ حَاجَةً إِلَى أَعْمَى، وَلَا تَطْلُبَنَّهَا لَيْلًا، وَإِذَا طَلَبْتَ الْحَاجَةَ فَاسْتَقْبِلِ الرَّجُلَ بِوَجْهِكَ فَإِنَّ الْحَيَاءَ فِي الْعَيْنَيْنِ، وَبَاكِرْ حَاجَتَكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: کسی اندھے آدمی سے اپنی ضرورت طلب نہ کرو، اور رات کو بھی اپنی ضرورت طلب نہ کرو، اور جب تم کوئی ضرورت طلب کرو تو اس شخص کی طرف اپنا چہرہ کر کے طلب کرو، کیونکہ حیا آنکھوں میں ہوتی ہے، اور اپنی ضرورت کے لیے صبح سویرے نکلو، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کی صبح سویرے میں برکت عطا فرما۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12910
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 229، حدیث 12966
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، وَأَبُو شُعَيْبِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ الزِّحَامَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَاحْتُبِسْتُ عَنْهُ أَيَّامًا، فَقَالَ لِي: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ»
ترجمہ
ابو جمرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہجوم کو روکا کرتا تھا، تو کچھ دن میں ان کے پاس نہ جا سکا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ میں نے کہا: بخار نے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے، تو اسے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12911
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 229، حدیث 12967
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطَى مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفًا فَقَالَ: «قَاتَلِ الْمُشْرِكِينَ مَا قُوتِلُوا، فَإِذَا رَأَيْتَ سَيْفَيْنِ اخْتَلَفَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبْ حَتَّى يَنْثَلِمَ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكِ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ» ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَحَذَا لِي عَلَى مِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ایک تلوار دی اور فرمایا: ”مشرکین سے لڑو جب تک وہ لڑیں، پھر اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کے درمیان دو تلواریں ٹکرا رہی ہیں تو (اپنی تلوار کسی پتھر پر) مارو یہاں تک کہ وہ کند ہو جائے، اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ تمہیں طے شدہ موت آ جائے یا کوئی خطاکار ہاتھ۔“ راوی کہتے ہیں: پھر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث سنائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12912
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 230، حدیث 12968
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: «إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اشجِ عبدالقیس سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے: حلم اور تحمل۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12913
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 230، حدیث 12969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، ثنا شُبَيْلُ بْنُ عَزْرَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرق والوں میں سب سے بہتر عبدالقیس ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12914
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 230، حدیث 12970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّضْرِ، عَنِ الْحَجَّاجِ الْعَائِشِيِّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا حَجِيجُ مَنْ ظَلَمَ عَبْدَ الْقَيْسِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص عبدالقیس پر ظلم کرے، میں اس کے خلاف اللہ کے حضور حجت پیش کرنے والا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12915
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 231، حدیث 12971
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّضْرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمُ الْعَائِشِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثَلَاثًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عبدالقیس کو بخش دے“ - تین بار۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12916
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 231، حدیث 12972
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثَلَاثًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عبدالقیس کو بخش دے“ - تین بار۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 232، حدیث 12973