حدیث نمبر: 12899
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ كُلَّمَا شِئْنَا، فَأَنْبِئْنَا مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں، اور ہم جب چاہیں آپ کے پاس نہیں آ سکتے، تو ہمیں بتا دیجیے کہ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور مالِ غنیمت میں سے خمس دو۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12899
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 225، حدیث 12955