حدیث نمبر: 12891
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ وَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ , فَقَالَ: «أَمَا إِنِّي لَوْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ» ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْجُلَنْدَى يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلَهُ، وَأَسْلَمَ، وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَقَدِمَتْ وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مَوْرِثًا فَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ، وَبَيْنَ النَّاسِ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلے کو خط لکھا جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی، تو انہوں نے خط قبول نہیں کیا اور نبی کریم ﷺ کے قاصدوں کو واپس لوٹا کر آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اگر میں یہ خط عمان کے ساحل پر آباد ازد شنوءہ اور اسلم کی قوم کے پاس بھیجتا تو وہ اسے ضرور قبول کرتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے جلندیٰ کے پاس قاصد بھیجا اور اسے اسلام کی دعوت دی، تو اس نے اسے قبول کیا اور مسلمان ہو گیا، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ بھیجا، تو وہ اس وقت پہنچا جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس ہدیے کو ترکہ قرار دیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12891
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 221، حدیث 12947