المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو جمرة، عن ابن عباس باب: ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ , فَمُرْنَا بِمَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا. قَالَ: «آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر حائل ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینے ہی میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو ہمیں بتا دیجیے کہ ہمارے لیے کیا حلال ہے اور ہم پر کیا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں اس بات کی گواہی دینے کا حکم دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، رمضان کے روزے رکھنے، اور جو مالِ غنیمت پاؤ اس میں سے خمس دینے کا۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کرتا ہوں۔“