المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو جمرة، عن ابن عباس باب: ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12912
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطَى مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفًا فَقَالَ: «قَاتَلِ الْمُشْرِكِينَ مَا قُوتِلُوا، فَإِذَا رَأَيْتَ سَيْفَيْنِ اخْتَلَفَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبْ حَتَّى يَنْثَلِمَ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكِ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ» ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَحَذَا لِي عَلَى مِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ایک تلوار دی اور فرمایا: ”مشرکین سے لڑو جب تک وہ لڑیں، پھر اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کے درمیان دو تلواریں ٹکرا رہی ہیں تو اپنی تلوار (کسی پتھر پر مار کر) توڑ ڈالو، اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ تمہیں طے شدہ موت آ جائے یا کوئی بھول کر مارنے والا ہاتھ۔“
راوی کہتے ہیں: پھر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث سنائی۔