حدیث نمبر: 12897
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا هَذَا الْحَيُّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ , فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ وَفَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وفدِ عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کا یہ قبیلہ ہیں، کفارِ مضر ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہو گئے ہیں، اور ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ تک پہنچ پاتے ہیں، تو آپ ہمیں کوئی حکم دیجیے جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں: ایمان“ - اور آپ ﷺ نے اسے ان کے لیے واضح کرتے ہوئے فرمایا - ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور یہ کہ تم مالِ غنیمت کا خمس ادا کرو۔ اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12897
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 224، حدیث 12953