المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو جمرة، عن ابن عباس باب: ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ بُدُوِّ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ بَعَثَ أَخَاهُ , فَقَالَ: ائْتِ مَكَّةَ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْهُ، وَتَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِ، فَانْطَلَقَ أَخُوهُ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعَ مِنْ نَبَأِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَيَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي , ثُمَّ أَخَذَ شَنَّةً فِيهَا مَاءٌ، وَإِدَاوَةٌ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَفَرِقَ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، عَنْ شَيْءٍ، وَلَمْ يَلْقَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَنَّهُ اللَّيْلُ فَلَمَّا أَعْتَمَ مَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ غِفَارٍ فَانْطَلِقْ إِلَى مَنْزِلِكَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا فَلَمْ يَلْقَهُ، فَقَامَ نَاحِيَةً فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: أَمَا آنَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْرِفَ مَنْزِلَهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ لَا يَسْأَلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذَ عَلَى عَلِيٍّ لَئِنْ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي يُرِيدُ لَيَكْتِمَنَّ عَلَيْهِ وَلَيَسْتُرَنَّ عَنْهُ، فَفَعَلَ، فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ ليَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَبَعَثْتُ بِأَخِي فَلَمْ يَأْتِنِي بِمَا يَشْفِينِي، فَجِئْتُ بِنَفْسِي لِأُخْبِرَ خَبَرَهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ مِنْهُ قُمْتُ كَأَنِّي أَبُولُ، وَرَجَعْتُ إِلَيْكَ، وَإِنْ لَمْ أَرَ شَيْئًا فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَغَدَا عَلِيٌّ، وَغَدَا أَبُو ذَرٍّ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ، وَسَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَسْلَمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , مُرْنِي بِأَمْرِكَ، قَالَ: «ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يَبْلُغَكَ خَبَرِي» ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ لَا رَجَعْتُ حَتَّى أَصْرُخَ بِالْإِسْلَامِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: صَبَأَ الرَّجُلُ صَبَأَ الرَّجُلُ، فضَرَبُوهُ حَتَّى سَقَطَ، فَمَرَّ بِهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْتُمْ تُجَّارٌ، وَطَرِيقُكُمْ عَلَى غِفَارٍ، تُرِيدُونَ أَنْ نَقْطَعَ الطَّرِيقَ عَنْكُمْ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي عَادَ لِمِثْلِ مَقَالَتِهِ فَضَرَبُوهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَهَذَا كَانُ بُدُوُّ الْإِسْلَامِ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ…اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہاں تک کہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اس نے آپ ﷺ کو اپنا حال بتایا، اور رسول اللہ ﷺ سے سنا، تو وہ مسلمان ہو گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا حکم دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میری خبر تمہیں پہنچے۔“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں لوٹوں گا جب تک اسلام کا اعلان نہ کر دوں۔ چنانچہ وہ مسجد کی طرف نکلا اور بلند آواز سے پکارا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر مشرکین نے کہا: یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! اور اسے مارا یہاں تک کہ وہ گر پڑا۔ اتنے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو اس پر جھک گئے، پھر کہا: اے گروہِ قریش! تم تاجر ہو، اور تمہارا راستہ غفار کے علاقے سے ہو کر جاتا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارا راستہ بند کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو اس نے پھر وہی بات دہرائی، تو انہوں نے اسے دوبارہ مارا، پھر عباس رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرے اور انہیں وہی بات کہی تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی ابتدا تھی۔