❮
❯
حدیث نمبر: 12903
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ بُدُوِّ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ بَعَثَ أَخَاهُ , فَقَالَ: ائْتِ مَكَّةَ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْهُ، وَتَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِ، فَانْطَلَقَ أَخُوهُ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعَ مِنْ نَبَأِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَيَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي , ثُمَّ أَخَذَ شَنَّةً فِيهَا مَاءٌ، وَإِدَاوَةٌ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَفَرِقَ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، عَنْ شَيْءٍ، وَلَمْ يَلْقَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَنَّهُ اللَّيْلُ فَلَمَّا أَعْتَمَ مَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ غِفَارٍ فَانْطَلِقْ إِلَى مَنْزِلِكَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا فَلَمْ يَلْقَهُ، فَقَامَ نَاحِيَةً فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: أَمَا آنَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْرِفَ مَنْزِلَهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ لَا يَسْأَلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذَ عَلَى عَلِيٍّ لَئِنْ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي يُرِيدُ لَيَكْتِمَنَّ عَلَيْهِ وَلَيَسْتُرَنَّ عَنْهُ، فَفَعَلَ، فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ ليَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَبَعَثْتُ بِأَخِي فَلَمْ يَأْتِنِي بِمَا يَشْفِينِي، فَجِئْتُ بِنَفْسِي لِأُخْبِرَ خَبَرَهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ مِنْهُ قُمْتُ كَأَنِّي أَبُولُ، وَرَجَعْتُ إِلَيْكَ، وَإِنْ لَمْ أَرَ شَيْئًا فَاتَّبِعْ أَثَرِي، فَغَدَا عَلِيٌّ، وَغَدَا أَبُو ذَرٍّ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ، وَسَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَسْلَمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , مُرْنِي بِأَمْرِكَ، قَالَ: «ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يَبْلُغَكَ خَبَرِي» ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ لَا رَجَعْتُ حَتَّى أَصْرُخَ بِالْإِسْلَامِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: صَبَأَ الرَّجُلُ صَبَأَ الرَّجُلُ، فضَرَبُوهُ حَتَّى سَقَطَ، فَمَرَّ بِهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْتُمْ تُجَّارٌ، وَطَرِيقُكُمْ عَلَى غِفَارٍ، تُرِيدُونَ أَنْ نَقْطَعَ الطَّرِيقَ عَنْكُمْ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي عَادَ لِمِثْلِ مَقَالَتِهِ فَضَرَبُوهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ، فَهَذَا كَانُ بُدُوُّ الْإِسْلَامِ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے آغاز کا واقعہ بیان کیا، فرمایا: جب انہیں (ابوذر کو) یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص نکلا ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا اور کہا: مکہ جاؤ، اس سے سنو، اور مجھے اس کی خبر لا کر دو۔ چنانچہ ان کا بھائی مکہ گیا، نبی کریم ﷺ کی خبر سنی، اور ابوذر کے پاس واپس آیا تو انہیں بتایا کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ ابوذر نے کہا: تم نے میری تسلی نہیں کی۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک مشکیزہ اور ایک برتن لیا اور روانہ ہو گئے یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ وہاں انہیں کسی سے کچھ پوچھنے میں ڈر محسوس ہوا، اور رات ہو جانے تک رسول اللہ ﷺ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جب رات گہری ہوئی تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ ابوذر نے کہا: غفار قبیلے کا ایک آدمی۔ (علی رضی اللہ عنہ نے کہا:) چلو اپنے گھر چلتے ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے، اور دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے کچھ نہ پوچھا۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر نکلے تاکہ رسول اللہ ﷺ سے ملیں مگر ملاقات نہ ہو سکی، تو وہ مسجد کے ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پھر وہاں سے گزر ہوا تو کہا: کیا اس شخص کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنا ٹھکانہ پہچان لے؟ چنانچہ وہ اسے پھر لے گئے اور دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے کچھ نہ پوچھا۔ جب تیسرا دن ہوا تو ابوذر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وعدہ لیا کہ اگر وہ انہیں ان کا مقصد بتا دیں تو وہ اسے چھپائیں گے اور راز میں رکھیں گے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، تو ابوذر نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ مکہ میں ایک شخص نکلا ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی کو بھیجا مگر وہ میری تسلی کے لیے کچھ نہ لا سکا، اس لیے میں خود آیا ہوں تاکہ اس کی خبر معلوم کروں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پیچھے پیچھے چلو، اگر مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں رک کر پیشاب کرنے کا بہانہ کروں گا اور تمہارے پاس واپس آ جاؤں گا، اور اگر کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا تو میرے پیچھے چلتے رہنا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ابوذر ان کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اپنا حال بتایا، اور رسول اللہ ﷺ سے سنا، تو وہ مسلمان ہو گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا حکم دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میری خبر تمہیں پہنچے۔“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں لوٹوں گا جب تک اسلام کا اعلان نہ کر دوں۔ چنانچہ وہ مسجد کی طرف نکلے اور بلند آواز سے پکارا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر مشرکین نے کہا: یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! یہ شخص اپنے دین سے پھر گیا! اور اسے مارا یہاں تک کہ وہ گر پڑے۔ اتنے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو ان پر جھک گئے، پھر کہا: اے گروہِ قریش! تم تاجر ہو، اور تمہارا راستہ غفار کے علاقے سے ہو کر جاتا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارا راستہ بند کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی، تو انہیں دوبارہ مارا، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور انہیں وہی بات کہی تو انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی ابتدا تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12903
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 226، حدیث 12959