حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي الْقَاسِمُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَجَعَلَتْ أَمَرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو پیغامِ نکاح بھیجا، تو انہوں نے اپنا معاملہ عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، تو انہوں نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ وَهُمَا جُنُبَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تُغَسِّلُهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب حمزہ بن عبدالمطلب اور حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہما شہید ہوئے جبکہ دونوں جنابت کی حالت میں تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے فرشتوں کو انہیں غسل دیتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أَنْزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} [البقرة: ١٨٥] وَقَوْلِهِ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ} [الدخان: ٣] فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ فِي رَمَضَانَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ جُمْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أُرْسِلَ عَلَى مَوَاقِعِ النُّجُومِ رِسْلًا فِي الشُّهُورِ وَالْأَيَّامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ”رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا“ [سورۃ البقرہ: 185] اور آیت ”بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا“ [سورۃ الدخان: 3] کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ رمضان میں، شبِ قدر کو، ایک بابرکت رات میں، ایک ہی بار نازل کیا گیا، پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مہینوں اور دنوں کے مطابق نازل کیا جاتا رہا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ مِنْ أُحُدٍ بَكَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى شُهَدائِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ» فَرَجَعَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالَتْ لنِسائِهِنَّ: لَا تَبْكِينَ أَحَدًا حَتَّى تَنْدُبْنَ حَمْزَةَ قَالَ: فَقَالَ فِيهِمْ إِلَى الْيَوْمِ: لَا تَبْكِينَ إِلَّا بَدَيْنَ بِحَمْزَةَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ احد سے واپس تشریف لائے تو انصار کی عورتیں اپنے شہداء پر رو پڑیں، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے کوئی رونے والا نہیں۔“ تو انصار واپس گئے اور اپنی عورتوں سے کہا: کسی پر مت رونا جب تک حمزہ پر نوحہ نہ کر لو۔ راوی کہتے ہیں: تو آج تک ان میں یہ کہا جاتا ہے: ”حمزہ سے شروع کیے بغیر مت رونا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: «لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟» قَالُوا: رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: «إِنِّي بَلَلْتُ فِيهِمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اپنے جوتے اتار دیے، ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، جب نماز پوری ہوئی تو فرمایا: ”تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نے آپ کو اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ان میں کوئی تری معلوم ہوئی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَخْطُبُهُمْ فِي السَّفَرِ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَخْطُبُهُمْ فِي السَّفَرِ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَانَ صَاحِبَ رَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَصَاحِبُ رَايَةِ الْمُهَاجِرِينَ عَلِيٌّ وَفِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ صَاحِبُ رَايَةِ عَلِيٍّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے علَم بردار تھے، اور تمام غزوات میں مہاجرین کے علَم بردار علی رضی اللہ عنہ ہی رہے، اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے علَم بردار تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ رمضان میں بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكُفَّارِ أَنْ {تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کفار کے نام خط یہ تھا: ”آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے...“ [سورۃ آل عمران: 64] آخر آیت تک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَحَدٍ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ انْكَسَرَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ وَهِيَ مُصِيبَةٌ، وَرَأَيْتُ عَلَيَّ دِرْعِي وَهِيَ مَدِينَتُكُمْ، لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب احد کے دن نبی کریم ﷺ کے سامنے ابوسفیان اور اس کے ساتھی آ اترے تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی، اور میں نے گائیں ذبح ہوتی دیکھیں - یہ ایک مصیبت ہے - اور میں نے دیکھا کہ میں اپنی زرہ پہنے ہوئے ہوں، وہ تمہارا شہر ہے، ان شاء اللہ وہ اس تک نہیں پہنچ سکیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مِائَةُ نَاضِحٍ ونَوَاضِحُ، وَكَانَ مَعَهُ فُرْسَانِ يَرْكَبُ أَحَدَهُمَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ويَتَرَوَّحُ الْآخَرَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَعْتَقِبُونَ فِي الطَّرِيقِ النَّوَاضِحَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ «يَعْتَقِبُونَ نَاضِحًا»
ترجمہ
…سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: آپ ﷺ کے صحابہ راستے میں پانی لادنے والے اونٹوں پر باری باری سوار ہوتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ اور مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ - جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے - ایک پانی لادنے والے اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّ الْعُزَّى كَانَتْ بِبَطْنِ النَّخْلَةِ، وَإِنَّ اللَّاتَ كَانَتْ بِالطَّائِفِ، وَإِنَّ مَنَاةَ كَانَتْ بِقُدَيْدٍ» . قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: «بَطْنُ نَخْلَةٍ هُوَ بُسْتَانُ بَنِي عَامِرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”عزیٰ بطن نخلہ میں تھی، لات طائف میں تھی، اور مناۃ قدید میں تھی۔“ (علی بن جعد کہتے ہیں: بطن نخلہ بنی عامر کا باغ ہے۔)
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ، صَاحِبُ أَبِي ثَوْرٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَتْ عَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَكَانَ عَلِيٌّ هُوَ الَّذِي أَدْخَلَهُ قَبْرَهُ، فَكَانَ إِذَا غَطَّى بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ قَدَمَاهُ، وَإِذَا غَطَّى قَدَمَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهُ أَنْ يُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ يَأْخُذَ لَهُ شَجَرًا مِنْ هَذَا الْعلْجانِ فَيَجْعَلَهُ عَلَى رِجْلَيْهِ»
ترجمہ
…تو جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تو اس کے پاؤں ننگے ہو جاتے، اور جب پاؤں ڈھانپتا تو سر باہر آ جاتا، تو اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنا سر ڈھانپے، اور اس علجان (ایک خودرو پودے) کی کچھ لکڑی لے کر اسے اپنے پاؤں پر رکھ لے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَبْصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنْظَلَةَ بْنَ الرَّاهِبِ وَحَمْزَةَ تُغَسِّلُهُمَا الْمَلَائِكَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے حنظلہ بن راہب اور حمزہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ فرشتے انہیں غسل دے رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ فَاسْتَعْمَلَ عَلِيًّا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَاسْتَعْمَلَ خَالِدًا عَلَى الْأَعْرَابِ قَالَ: «وَإِنْ كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيٌّ عَلَى جَمَاعَةِ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف بھیجا، تو علی رضی اللہ عنہ کو مہاجرین پر امیر بنایا، اور خالد رضی اللہ عنہ کو دیہاتی قبائل پر امیر بنایا، اور فرمایا: ”اگر لڑائی ہو تو علی سب لوگوں پر امیر ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَرْمِي الْجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ مَا إِذَا فَرَغَ مِنْ رَمْيِهَا صَلَّى الظُّهْرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ زوالِ آفتاب کے بعد اتنی دیر سے جمرات کو کنکری مارتے کہ جب اس سے فارغ ہوتے تو ظہر کی نماز پڑھتے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ فَعَلُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَقُبِلَتْ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تو وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ ایسا کر چکے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس چور بھی ایسی توبہ کرے تو وہ قبول کر لی جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي الْجَنَّةِ ذَا جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ حَيْثُ شَاءَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جعفر بن ابی طالب کو جنت میں دو پروں والا دیکھا، وہ جہاں چاہتا اڑتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ تَعَالَى عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مَلِكُ الْأَمْلَاكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص پر شدید ہو جاتا ہے جو خود کو 'شہنشاہ' کہلاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «شَهِدَ الْفَتْحَ أَلْفٌ وَثَمَانُمِائَةٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَأَلْفٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، وَتِسْعُمِائَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ أَسْلَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”فتح مکہ میں جہینہ کے اٹھارہ سو، مزینہ کے ایک ہزار، بنی سلیم کے نو سو، بنی غفار کے چار سو کچھ اوپر، اور اسلم کے چار سو کچھ اوپر افراد شریک تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ خَدِيجَةَ وَلَدَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةً عَبْدَ اللهِ وَالْقَاسِمَ وَرُقَيَّةَ وَأُمَّ كُلْثُومٍ وَفَاطِمَةَ، وَوَلَدَتْ لَهُ مَارِيَةُ الْقِبْطِيَّةُ إِبْرَاهِيمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے لیے چھ بچے جنے: عبداللہ، قاسم، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم، اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے لیے ابراہیم کو جنم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو سَمُرَةَ قَاضِي حَوَرٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَنْ سَيِّدُكُمْ؟» قَالُوا: جَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَإِنَّا لَنُبَجِّلُهُ قَالَ: «لَيْسَ سَيِّدَكُمْ، وَلَكِنْ سَيِّدُكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ» وَكَانَ سَخِيًّا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: جد بن قیس، اور ہم اسے بڑا مانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارا سردار نہیں، بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے۔“ اور وہ سخی تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَرْمِي الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ قَدْرَ إِذَا مَا فَرَغَ مِنْ رَمْيِهِ صَلَّى الظُّهْرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ زوالِ آفتاب کے وقت اتنی دیر سے جمرات کو کنکری مارتے کہ جب اس سے فارغ ہوتے تو ظہر کی نماز پڑھتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى «أَيُّمَا عَبْدٍ خَرَجَ فَهُوَ حُرٌّ» فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب نبی کریم ﷺ طائف میں اترے تو ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے: ”جو بھی غلام نکل آئے وہ آزاد ہے۔“ تو دو غلام اس کی طرف نکل آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ مِنْ سُوقِهِ أَنْ يَقْرَأَ عَشَرَ آيَاتٍ فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً؟»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! کیا تم میں سے کسی کے لیے یہ مشکل ہے کہ جب وہ اپنے بازار سے لوٹے تو دس آیتیں پڑھ لے، تو اللہ اسے ہر آیت کے بدلے ایک نیکی لکھ دے؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَمَرنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَرْمِيَ الْجِمَارَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تک سورج طلوع نہ ہو، جمرات کو کنکری نہ ماریں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ قَالَ: «لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے کمزور افراد کو مزدلفہ سے آگے بھیج دیا، پھر فرمایا: ”جب تک سورج طلوع نہ ہو، جمرے کو کنکری نہ مارو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نماز میں اپنے چہرے سے پسینہ پونچھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «انْتَهَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ وَقِيذٌ فَاسْتَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَبَدَرَ رَأْسَهُ، ثُمَّ أَخَذَ سَلَبَهُ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فأَحْلَفَهُ بِاللهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفَ، فَجَعَلَ لَهُ سَلَبَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بدر کے دن ابوجہل کے پاس پہنچے جبکہ وہ زخموں سے چور تھا مگر ابھی زندہ تھا، تو انہوں نے اپنی تلوار کھینچی اور اس کی گردن پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا، پھر انہوں نے اس کا سازوسامان لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ انہوں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں تین بار اللہ کی قسم دلائی، تو انہوں نے قسم کھائی، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کا سازوسامان انہیں دے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سکون و وقار کے ساتھ افاضہ کیا“ - اور راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ یومِ ترویہ کو منیٰ میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا شَاذَانُ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ بِبَرَاءَةٍ، ثُمَّ أتْبَعَهُ عَلِيًّا فَأَخَذَهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَا، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ، وَعَلَى الْحَوْضِ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سورۃ براءت (توبہ) دے کر بھیجا، پھر ان کے پیچھے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے وہ لے لی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا میرے بارے میں کوئی بات ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تم غار میں میرے ساتھی ہو، اور حوض پر بھی، اور میری طرف سے کوئی پیغام نہیں پہنچائے گا سوائے میرے یا علی کے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا، وَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلِيٌّ فَرَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ عَلَى الْمَوْسِمِ، وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى: «ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ» ، فَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي بِهَا فَإِذَا بُحَّ قَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَادَى بِهَا
ترجمہ
…تو انہیں حج کے موسم پر امیر بنایا، اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ کلمات اعلان کریں، چنانچہ دونوں روانہ ہوئے اور حج کیا، تو علی رضی اللہ عنہ ایامِ تشریق میں کھڑے ہوئے اور اعلان کیا: ”اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری ہر مشرک سے بری ہے، سو تم چار ماہ زمین میں گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہ کرے، اور جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا۔“ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ یہ اعلان کرتے رہے، پھر جب ان کی آواز بیٹھ گئی تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور یہ اعلان کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کی تو نبی کریم ﷺ نے اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ» .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس جائے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِرْدَانْبَةَ، عَنْ رُقْبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس جائے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
…