❮
❯
حدیث نمبر: 9739
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَبِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ فَقُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، فَلُجَّ، فَلَمَّا دَخَلَ إِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ؟ وَذَلِكَ فِي نَحْوِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ، فَتَذَكَّرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ» ، قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: «حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ» ، قُلْتُ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ؟ قَالَ: «اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ، وَادْخُلْ دَارَكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: «فَادْخُلْ بَيْتَكَ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: " فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ فَاصْنَعْ هَكَذَا، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ، وَقُلْ: رَبِّيَ اللهُ، حَتَّى تَمُوتَ كَذَلِكَ "
ترجمہ

سیدنا وابصہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا کہ گھر کے دروازے پر (آواز) سنی: السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیک السلام، اندر آ جاؤ۔ جب وہ داخل ہوئے تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ کون سی گھڑی ہے ملاقات کی؟ - اور یہ قریب دوپہر کا وقت تھا - انہوں نے کہا: دن مجھ پر طویل ہو گیا تو میں نے سوچا کہ کس سے بات چیت کروں۔

راوی کہتے ہیں: پھر وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی انہیں سناتا رہا۔ پھر انہوں نے (خود) بات شروع کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ایک فتنہ برپا ہو گا، اس میں سویا ہوا شخص لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا، لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، کھڑا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا، اور اس میں سوار (فتنہ کی طرف) دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اس کے سب مقتول جہنم میں ہوں گے“۔

راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کب ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہرج (قتل و غارت) کے دنوں میں ہو گا“۔ میں نے پوچھا: ہرج کے دن کب ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے ہم نشین پر بھی اعتماد نہ کر سکے“۔ میں نے پوچھا: اگر میں وہ زمانہ پا لوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ کو اور اپنے ہاتھ کو روکے رکھو، اور اپنے گھر میں چلے جاؤ“۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے کمرے میں چلے جاؤ“۔ میں نے پوچھا: اگر کوئی میرے کمرے میں بھی گھس آئے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی مسجد (نماز کی جگہ) میں چلے جاؤ اور یوں کرو“ - اور آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے اپنی کلائی پکڑی - ”اور کہو: میرا رب اللہ ہے، یہاں تک کہ تم اسی حال میں مر جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9739
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 8، حدیث 9774