حدیث نمبر: 9731
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَكْثَرُوا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثُّلَّةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقِيلَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى وَمَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: فَأَيْنَ أُمَّتِي، قِيلَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، فَقِيلَ لِي: أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ يَا رَبِّ، رَضِيتُ يَا رَبِّ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِدَاءٌ لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ أَلْفًا فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ؛ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ» ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ: ادْعُ لِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ، فَدَعَا لَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللهَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» . قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفِ؟ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى مَاتُوا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...پھر مجھ سے کہا گیا: کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا: میں راضی ہوں، اے رب! میں راضی ہوں، اے رب! تو مجھ سے کہا گیا: ان کے ساتھ ستر ہزار افراد بھی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، اگر تم ان ستر ہزار میں سے ہو سکو تو ہو جاؤ، اور اگر تم قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں سے ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی قاصر رہو تو افق والوں میں سے ہو جاؤ، کیونکہ میں نے لوگوں کو بہت دھکم پیل کرتے دیکھا ہے۔“ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے ان ستر ہزار میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہلے یہ دعا لے چکا۔“ (راوی) کہتے ہیں: پھر ہم نے آپس میں گفتگو کی اور کہا: یہ ستر ہزار کون ہوں گے؟ (کچھ نے کہا:) وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9731
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 6، حدیث 9766