المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه باب: اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مسند میں سے
حدیث نمبر: 9738
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُعَاتِبُهُمُ اللهُ إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ {وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ} [الحديد: ١٦] فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے اسلام لانے اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان صرف چار سال کا فاصلہ تھا جس میں اللہ نے انہیں ملامت کی ہے: ”اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں“ [سورۃ الحدید: 16]۔