المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه باب: اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مسند میں سے
حدیث نمبر: 9765
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَشْتَرِطُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا»ترجمہ
سیدنا عبداللہ کی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی - راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا: ”کسی عورت کا اس کی پھوپھی پر، اور نہ اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے، اور نہ عورت یہ شرط رکھے کہ اس کی بہن کو طلاق دی جائے تاکہ وہ اس کے حصے کا سارا برتن الٹ دے (یعنی سارا حق خود لے لے)۔“