حدیث نمبر: 9730
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: تَحَدَّثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَكْرَانَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الثُّلَّةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَإِذَا النَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَقَدْ أَنْبَأَكُمُ اللهُ عَنْ قَوْمِ لُوطٍ فَقَالَ {أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ} [هود: ٧٨] ، قَالَ: حَتَّى مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: يَا رَبِّ، فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُدَّ مِنْ وُجُوهِ الرِّجَالِ، قَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ مِنْ وُجُوهِ الرِّجَالِ، قَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". فَأَتَى عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» ، ثُمَّ قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِ اسْتَطَعْتُمْ بِأَبِي أَنْتُمْ وَأُمِّي، أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ الظِّرَابِ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ الْأُفُقِ؛ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أُنَاسًا يَتَهَاوَشُونَ كَثِيرًا» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي رُبْعَ الْجَنَّةِ» ، فَكَبَّرَ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَكَبَّرَ الْقَوْمُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: ١٤] ، فَتَذَاكَرُوا بَيْنَهُمْ: مَنْ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا عَلَيْهِ، حَتَّى رُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے: ”...اور ان کے ساتھ ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں سے بنا دے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہلے یہ دعا لے چکا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، اگر تم ان ستر ہزار میں شامل ہو سکو تو ہو جاؤ، اور اگر تم اس سے قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں شامل ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی قاصر رہو تو افق والوں میں شامل ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ بہت زیادہ دھکم پیل کرتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت کے پیروکار جنت کا چوتھائی حصہ ہوں گے۔“ لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ وہ جنت والوں کا آدھا حصہ ہوں گے۔“ لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”ایک جماعت پہلوں میں سے اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے“ [سورۃ الواقعہ: 14]۔ پھر لوگوں نے آپس میں گفتگو کی کہ یہ ستر ہزار کون ہوں گے؟ کچھ نے کہا: وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اسی پر فوت ہوئے، یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9730
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 5، حدیث 9765