المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه باب: اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مسند میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ وَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ، فَإِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا قَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، أَعْطَانِي شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا. فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَلَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، وَهُوَ يَعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ، عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولَ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِيهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَتَرْضَى أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ فَيَقُولُ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ثُمَّ قَالَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ» ، قَالَ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " مِنْ ضَحِكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيْثُ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: «لَا، إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ، وَلَكِنْي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدْيرٌ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا شخص پل صراط پر (اس حال میں) چل رہا ہو گا کہ کبھی چلے گا اور کبھی اوندھے منہ گرے گا، اور آگ اسے جھلستی رہے گی۔ جب وہ اس سے پار ہو جائے گا تو مڑ کر اس کی طرف دیکھے گا اور کہے گا: بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اس نے مجھے وہ کچھ عطا کیا جو اس نے پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ پھر اس کے لیے ایک درخت بلند کیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں سستا لوں اور اس کا پانی پی لوں۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! شاید اگر میں تجھے یہ دے دوں تو تو مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگے۔ پس وہ اسے اس کے قریب کر دے گا، جبکہ اس کا رب جانتا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا، چنانچہ وہ اس کے سائے میں سستائے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کے لیے ایک اور درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں سستا لوں اور اس کا پانی پیوں، اور میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اور اس کا رب جانتا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر صبر ممکن نہ ہو گا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: ہاں اے میرے رب، لیکن یہ (والی) - اس کے سوا میں کچھ نہیں مانگوں گا۔ اور اس کا رب جانتا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا، اور وہ اسے معذور سمجھتا ہے کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر اسے صبر نہ ہو گا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: شاید اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو تو مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگے۔ وہ عہد کرے گا کہ ایسا نہیں کرے گا، تو اللہ اسے اس کے قریب کر دے گا، وہ اس کے سائے میں سستائے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر جنت کے دروازے کے پاس اس کے لیے ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے دونوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، میں اس کے سائے میں سستا لوں اور اس کا پانی پیوں۔ اللہ جل ذکرہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! یہ (والی) - اس کے سوا میں کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ فرمائے گا: شاید اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو تو مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگے۔ وہ عہد کرے گا کہ ایسا نہیں کرے گا، جبکہ اس کا رب جانتا ہو گا کہ وہ ایسا ہی کرے گا، اور اس کا رب اسے معذور سمجھے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر اسے صبر نہ ہو گا۔ پس اللہ اسے اس کے قریب کر دے گا، تو وہ جنت والوں کی آوازیں سنے گا اور کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے۔ اللہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے دنیا اور اس جیسی ایک اور دنیا دے دوں؟ وہ کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے جبکہ تو رب العالمین ہے؟“
راوی کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، پھر فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رب العالمین تبارک و تعالیٰ کے اس ہنسنے سے (میں ہنسا) جب اس نے فرمایا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے جبکہ تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: نہیں، میں مذاق نہیں کرتا، بلکہ میں جو چاہوں کرنے پر قادر ہوں۔“