حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّمَا هِي تَوْبَةُ نَبِيٍّ ذُكِرَتْ، فَكَانَ لَا يَسْجُدُ فِيهَا» يَعْنِي ص
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ سجدہ تو ایک نبی کی توبہ کا تذکرہ ہے“، اس لیے وہ اس میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے۔ یعنی سورۃ ص کے بارے میں فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، «كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ص میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَقَالَ: «إِنَّمَا هِي تَوْبَةُ نَبِيٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ص میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے اور فرماتے: ”یہ تو ایک نبی کی توبہ کا تذکرہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص، وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هِي تَوْبَةُ نَبِيٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ص میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے اور فرماتے: ”یہ تو ایک نبی کی توبہ کا تذکرہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ زِرٍّ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ، كَانَ لَا يَسْجُدُ فِي ص»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ص میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَا: كَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يَسْجُدُ فِي ص وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هِي تَوْبَةُ نَبِيٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ص میں سجدہ نہیں کیا کرتے تھے اور فرماتے: ”یہ تو ایک نبی کی توبہ کا تذکرہ ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَفْتَحُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ، ثُمَّ قَامَ فَبَالَ فَأَمْسَكَ الرَّجُلُ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ: «اقْرَأْ» ، قَالَ: إِنَّكَ بُلْتَ، قَالَ: «اقْرَأْ» ، فَكَانَ يَفْتَحُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو تلاوت کرتے ہوئے، جب وہ اٹک جاتا، پڑھا دیا کرتے تھے، پھر وہ کھڑے ہوئے اور پیشاب کرنے لگے تو اس شخص نے پڑھنا روک دیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”پڑھو۔“ اس نے کہا: آپ نے تو پیشاب کیا ہے۔ فرمایا: ”پڑھو۔“ چنانچہ وہ اسے اسی حالت میں پڑھا دیتے رہے جبکہ وہ تلاوت کر رہا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يُقْرِئُ رَجُلًا فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ، فَبَالَ فَكَفَّ عَنْهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ؟» قَالَ: أَحْدَثْتَ، قَالَ: «اقْرَأْ» ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَجَعَلَ يَفْتَحُ عَلَيْهِ
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو قرآن پڑھا رہے تھے، جب وہ فرات نہر کے کنارے پہنچے تو پیشاب کیا، اس شخص نے پڑھنا روک دیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: آپ کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ فرمایا: ”پڑھو۔“ چنانچہ وہ پڑھنے لگا اور وہ اسے اٹکنے پر پڑھا دیتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «تَبَرَّزَ عَبْدُ اللهِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَهُ رَجُلٌ فَفَتَحَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَلْمِسَ مَاءً»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر ایک شخص نے تلاوت میں اٹک کر ان سے مدد چاہی تو انہوں نے پانی چھونے سے پہلے ہی اسے پڑھا دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ فِي خَاتَمِ ابْنِ مَسْعُودٍ شَجَرَةٌ أَوْ شَيْءٌ بَيْنَ ذُبَابَيْنِ»
ترجمہ
جابر بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی میں ایک درخت کندہ تھا، یا فرمایا: دو مکھیوں کے درمیان کوئی چیز۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِخَمْسِ آيَاتٍ لَمْ يَكْتُبْ فِي لَيْلَتِهِ أَبَدًا مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ مِائَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَمَنْ قَرَأَ سَبْعَ مِائَةٍ أَفْلَحَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو رات کو پانچ آیات پڑھے تو وہ اس رات غافلوں میں کبھی نہیں لکھا جاتا، اور جو سو آیات پڑھے وہ فرمانبرداروں میں لکھا جاتا ہے، اور جو تین سو آیات پڑھے اسے ایک قنطار (بڑا اجر) لکھا جاتا ہے، اور جو سات سو آیات پڑھے وہ کامیاب ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللهِ يَسْجُدُ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (سورۃ الانشقاق) میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: " سَجَدْتُ مَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عَبْدِ اللهِ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ "، قَالَ الْأَسْوَدُ: «أَمَّا أَحَدُهُمَا فَلَا أَشُكُّ فِيهِ»
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں کے ساتھ سورۃ الانشقاق میں سجدہ کیا۔ اسود نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے ایک کے بارے میں تو مجھے کوئی شک نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ، وَعُمَرَ - أَوْ أَحَدَهُمَا - يَسْجُدُ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ "
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو — یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو — سورۃ الانشقاق میں سجدہ کرتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَحْسِبُهُ عَنْ عَلْقَمَةَ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ، كَانَ يَسْجُدُ فِي النَّجْمِ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ النجم اور سورۃ العلق (اقرأ باسم ربک) میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْأَعْرَافِ، أَوِ النَّجْمِ، أَوْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، أَوْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، فَشَاءَ أَنْ يَرْكَعَ بِآخِرِهِنَّ رَكَعَ أَجْزَأَهُ سُجُودُ الرُّكُوعِ، وَإِنْ سَجَدَ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا سُورَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو سورۃ الاعراف، یا سورۃ النجم، یا ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾، یا سورۃ بنی اسرائیل، یا ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ پڑھے، اور ان کے آخر میں رکوع کرنا چاہے تو رکوع کر لے، اس کے لیے رکوع کا سجدہ ہی کافی ہو گا، اور اگر وہ سجدہ کرے تو اس کے بعد ایک اور سورت ملا لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْأَعْرَافَ، وَالنَّجْمَ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، فَشَاءَ أَنْ يَرْكَعَ بِآخِرِهِنَّ رَكَعَ أَجْزَأَهُ سُجُودُ الرُّكُوعِ، وَإِنْ سَجَدَ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا سُورَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو سورۃ الاعراف، سورۃ النجم، یا ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ پڑھے، اور ان کے آخر میں رکوع کرنا چاہے تو رکوع کر لے، اس کے لیے رکوع کا سجدہ ہی کافی ہو گا، اور اگر وہ سجدہ کرے تو اس کے بعد ایک اور سورت ملا لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْأَعْرَافَ، وَالنَّجْمَ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، فَإِنْ شَاءَ رَكَعَ بِهَا وَقَدْ أَجْزَأَهُ عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ السُّورَةَ، وَرَكَعَ، وَسَجَدَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو سورۃ الاعراف، سورۃ النجم، یا ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ پڑھے، تو اگر چاہے تو انہی کے ساتھ رکوع کر لے، یہ اس کے لیے کافی ہو گا، اور اگر چاہے تو سجدہ کر لے، پھر کھڑا ہو کر کوئی اور سورت پڑھے، پھر رکوع اور سجدہ کرے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي صَدَقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، " أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ إِذَا قَرَأَ: النَّجْمَ عَلَى النَّاسِ سَجَدَ بِهَا، وَإِذَا قَرَأَهَا فِي الصَّلَاةِ رَكَعَ بِهَا وَسَجَدَ "
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب لوگوں کے سامنے سورۃ النجم پڑھتے تو اس میں سجدہ کرتے، اور جب اسے نماز میں پڑھتے تو اس میں رکوع کرتے اور سجدہ کرتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْهِ فِي التَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نماز میں مسکرانے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ، يَذْكُرَانِ «أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَسْجُدُ فِي الْآيَةِ الْأُولَى مِنْ حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ ﴿حم * تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ کی سجدے کی آیت میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ قِرْطَاسٍ، حَدَّثَنِي الْمُسَيِّبُ بْنُ رَافِعٍ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ الصَّلَوَاتِ هُنَّ الْحَسَنَاتُ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْأُولَى إِلَى الْعَصْرِ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعَتَمَةِ صَلَاةُ الْعَتَمَةِ، ثُمَّ يَأْوِي الْمُسْلِمُ إِلَى فِرَاشِهِ لَا ذَنْبَ لَهُ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نمازیں ہی نیکیاں ہیں، اور صبح کی نماز سے عصر تک کا کفارہ نمازِ عصر ہے، اور عصر سے مغرب تک کا کفارہ نمازِ مغرب ہے، اور مغرب سے عشاء تک کا کفارہ نمازِ عشاء ہے، پھر مسلمان اپنے بستر کی طرف جاتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا، جب تک اس نے کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہو“، پھر یہ آیت پڑھی: ”بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں“ [سورۃ ہود: 114]۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمٌ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ لَقِيطِ بْنِ قَبِيصَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «تَحْتَرِقُونَ حَتَّى إِذَا صَلَّوُا الْفَجْرَ غُسِلَتْ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ حَتَّى إِذَا صَلَّوُا الظُّهْرَ غُسِلَتْ، تَحْتَرِقُونَ حَتَّى إِذَا صَلَّوُا الْعَصْرَ غُسِلَتْ، حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا هَكَذَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم گناہوں سے جلتے رہتے ہو یہاں تک کہ جب فجر کی نماز پڑھتے ہو تو وہ دھل جاتی ہے، پھر جلتے رہتے ہو یہاں تک کہ جب ظہر کی نماز پڑھتے ہو تو وہ دھل جاتی ہے، پھر جلتے رہتے ہو یہاں تک کہ جب عصر کی نماز پڑھتے ہو تو وہ دھل جاتی ہے“، یہاں تک کہ سب نمازوں کا اسی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْحَقَائِقُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ پانچوں واجب نمازیں ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الصَّلَوَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: " كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَهُوَ يَمْشِي، فَإِذَا مَرَرْنَا بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَكَبَّرْنَا، وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا إِيمَاءً يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَقُولُ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ «وَزَعَمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ» أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ "
ترجمہ
… جب ہم سجدے کی آیت پر گزرتے تو وہ تکبیر کہتے اور ہم بھی تکبیر کہتے، اور وہ اشارے سے سجدہ کرتے اور ہم بھی اشارے سے سجدہ کرتے، پھر وہ اپنا سر اٹھاتے اور کہتے: السلام علیکم، تو ہم کہتے: وعلیکم السلام۔ ابوعبدالرحمٰن کا خیال ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ مِنْكُمُ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ فَإِنْ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا مُهَاجِرُ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ: وَأَنَا أَقْرَأُ، فَيَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ: أَتَفْرِضُ يَا مُهَاجِرُ؟ فَإِذَا قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: زِيَادَةٌ وَخَيْرٌ، وَإِنْ قَالَ: لَا أُحْسِنُهُ، قَالَ: فَمَا فَضْلُكَ عَلَيَّ يَا مُهَاجِرُ؟ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم میں سے جو قرآن پڑھے اسے فرائض (وراثت کے احکام) بھی سیکھنے چاہئیں، کیونکہ اگر اسے کوئی بدوی ملے اور کہے: اے مہاجر! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ وہ کہے: ہاں، تو بدوی کہے گا: میں بھی پڑھتا ہوں۔ پھر بدوی پوچھے گا: کیا تمہیں فرائض کا علم ہے، اے مہاجر؟ اگر وہ کہے: ہاں، تو بدوی کہے گا: تمہیں زیادتی اور بھلائی حاصل ہے، اور اگر وہ کہے: مجھے اس کا علم نہیں، تو بدوی کہے گا: پھر تمہیں مجھ پر کیا فضیلت حاصل ہے، اے مہاجر؟“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَنْبَسِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحْوَجُ إِلَى طُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، زمین پر کوئی چیز طویل قید کی اتنی محتاج نہیں جتنی زبان۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَنْبَسِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحْوَجُ إِلَى طُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زمین کی پیٹھ پر کوئی چیز طویل قید کی اتنی محتاج نہیں جتنی زبان۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِرَاشٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَنْبَسِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا عَلَى الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحَقُّ بِطُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”زمین پر کوئی چیز طویل قید کی زیادہ حقدار نہیں جتنی زبان۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَنْبَسِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «مَا مِنْ شَيْءٍ أَحَقُّ بِطُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کوئی چیز طویل قید کی اتنی حقدار نہیں جتنی زبان۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ الْإِثْمَ حَوَازُّ الْقُلُوبِ، فَمَا حَزَّ فِي قَلْبِ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ فَلْيَدَعْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”گناہ وہ ہے جو دل کو کچوکے لگائے، تو تم میں سے جس کے دل میں کوئی چیز کھٹکے وہ اسے چھوڑ دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ نَظْرَةٍ فَلِلشَّيْطَانِ فِيهَا مَطْمَعٌ، وَالْإِثْمُ حَوَازُّ الْقُلُوبِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو بھی بری نظر ہوتی ہے اس میں شیطان کا حصہ ہوتا ہے، اور گناہ وہ ہے جو دل کو کچوکے لگائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِيَّاكُمْ وَأَحْوَازَ الصُّدُورِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ان باتوں سے بچو جو سینوں کو کھٹکیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ تَخَشَّعَ لِلَّهِ تَوَاضُعًا رَفَعَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو نیک عمل کر کے لوگوں کو سنائے تو اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا، اور جو ریاکاری کرے تو اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا، اور جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتے ہوئے عاجزی کرے تو اللہ اسے قیامت کے دن بلند کرے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَحِبَّ الْعُلَمَاءَ، وَلَا تُبْغِضْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عالم بن کر یا طالبِ علم بن کر صبح کرو، اس کے درمیان کی حالت میں صبح نہ کرو، اور اگر یہ نہ کر سکو تو علماء سے محبت رکھو اور ان سے بغض نہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، أَوْصَى ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: «أُوصِيكَ بِاتِّقَاءِ اللهِ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ، وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، تمہارا گھر تمہارے لیے کافی ہو، اپنے گناہ پر روتے رہو، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «يُكْوَى رَجُلٌ، يَكْنِزُ فَيَمَسُّ دِرْهَمٌ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارٌ دِينَارًا يُوَسَّعُ جِلْدُهُ حَتَّى يُوضَعَ كُلُّ دِينَارٍ وَدِرْهَمٍ عَلَى حِدَتِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مال جمع کرنے والے آدمی کو داغا جائے گا، اور کوئی درہم کسی درہم کو نہیں چھوئے گا، اور نہ کوئی دینار کسی دینار کو، اس کی جلد اتنی پھیلا دی جائے گی کہ ہر دینار اور درہم الگ الگ رکھا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «تَعَوَّدُوا الْخَيْرَ فَإِنَّ الْخَيْرَ بِالْعَادَةِ، وَحَافِظُوا عَلَى نِيَّاتِكُمْ فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”خیر کی عادت ڈالو، کیونکہ خیر عادت ہی سے حاصل ہوتی ہے، اور نماز میں اپنی نیتوں کی حفاظت کرو۔“
…