کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عکرمہ بن عمار کی ایاس بن سلمہ کے واسطے سے ان کے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عَلِيٍّ، وَهُوَ أَرْمَدُ، فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَهِ، فَبَرَأَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں آج یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اسے محبوب رکھتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلانے بھیجا، جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، میں انہیں ہاتھ پکڑ کر لے آیا، آپ ﷺ نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئی، اور آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ مَزْكُومٌ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے پاس چھینک ماری تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یرحمک اللہ۔“ پھر اس نے دوبارہ چھینکا تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”یرحمک اللہ۔“ پھر اس نے تیسری بار چھینکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص نزلے میں مبتلا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ بُسْرَ ابْنَ رَاعِي الْعَنْزِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ» ، فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ: «لَا اسْتَطَعْتَ» فَمَا نَالَتْ يَمِينُهُ إِلَى فِيهِ بَعْدُ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بُسر بن راعی العنز کو بائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھا تو فرمایا: ”دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کبھی نہ کر سکو۔“ چنانچہ اس کے بعد اس کا دایاں ہاتھ کبھی اس کے منہ تک نہ پہنچا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ» ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا اسْتَطَعْتَ» قَالَ: فَمَا رَفَعَهَا بَعْدُ إِلَى فِيهِ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں نہیں کر سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم کبھی نہ کر سکو۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد وہ اسے کبھی اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى الْمَاءِ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجْتُ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَنِي، ثُمَّ لَقِيَنِي مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ , فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ، لِلَّهِ أَبُوكَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، وَهِيَ لَكَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي فِي السُّوقِ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، مَا فَعَلَتِ الْمَرْأَةُ , لِلَّهِ أَبُوكَ» ، قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَفَكَّهُمْ بِهَا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی عطا کی، میں نے مدینہ پہنچنے تک اس کا کپڑا بھی نہ ہٹایا، پھر میں نکلا اور میں نے اس کا کپڑا نہیں ہٹایا تھا، تو مجھے رسول اللہ ﷺ ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! یہ عورت مجھے دے دو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، یہ مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں ہٹایا۔ تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر اگلے دن بازار میں مجھے ملے تو فرمایا: ”اے سلمہ! یہ عورت مجھے دے دو، اللہ تمہارے باپ کو بھلائی دے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں نے اس کا کپڑا نہیں ہٹایا، اور یہ آپ کے لیے حاضر ہے۔ جب اگلا دن ہوا تو بازار میں مجھے ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! اس عورت کا کیا ہوا، اللہ تمہارے باپ کو بھلائی دے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اہلِ مکہ کے پاس بھیج دیا، جن کے پاس مسلمانوں کے کچھ قیدی تھے، تو آپ ﷺ نے اس عورت کے بدلے انہیں فدیہ دے کر چھڑا لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَلَقِيَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِلَّهِ أَبُوكَ , هَبْهَا لِي» , فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ، فَفَادَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بنو فزارہ کی ایک لڑکی حاصل کی، تو نبی کریم ﷺ مجھے ملے اور فرمایا: ”اللہ تمہارے باپ کو بھلائی دے، یہ مجھے دے دو۔“ تو میں نے وہ آپ ﷺ کو دے دی، پھر آپ ﷺ نے اس کے بدلے مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا فدیہ دلوایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلْنَاهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا: «أَمِتْ» ، قَالَ سَلَمَةُ: قَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ تِسْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، ہم نے مشرکین میں سے کچھ لوگوں کے خلاف جنگ کی اور انہیں قتل کر دیا، اور ہمارا نعرہ تھا: ”مار ڈالو۔“ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس رات اپنے ہاتھ سے نو گھرانوں کے افراد کو قتل کیا۔
حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حُذَيْفَةُ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ، فَبَايَعْنَاهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ، قَالَ: وَبَايَعْتُ فِي أَوَّلِ النَّاسِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَلَمَةُ، بَايِعْنِي» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، قَدْ وَاللهِ بَايَعْتُكَ فِي أَوَّلِ النَّاسِ، فَقَالَ: «وَأَيْضًا» ، قَالَ: فَبَايَعْتُهُ، فَرَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ مَعِيَ جُنَّةٌ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حدیبیہ سے واپس آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم نے ایک درخت کے تنے کے پاس آپ ﷺ سے بیعت کی، اور میں نے سب سے پہلے بیعت کی۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے سلمہ! مجھ سے بیعت کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ کی قسم میں تو سب سے پہلے بیعت کر چکا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بھی۔“ چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا جبکہ میرے پاس کوئی ڈھال نہیں تھی — اور راوی نے مزید حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ قُعُودٌ نَتَضَحَّى، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ، فَقَيَّدَ بِهِ بَعِيرَهُ، ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى , فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ رِقَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو حَتَّى أَتَى بَعِيرَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ يَرْكَبُهُ، وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ، فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلِي، فَلَحِقْتُهُ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْبَعِيرِ، فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِنَاقَتِهِ أَقُودُهَا , عَلَيْهَا سَلَبُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟» قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «لَكَ سَلَبُهُ أَجْمَعُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ
حَدَّثَنَا، أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ» ، ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ جَمِيعًا
وَبِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»
حَدَّثَنَا، أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ» ، ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ جَمِيعًا
وَبِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی تلوار کھینچی اور اس کا سر مار دیا، پھر میں اس کی اونٹنی لے آیا جس پر اس کا سامان لدا تھا، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ مجھے ملے اور پوچھا: ”اس شخص کو کس نے قتل کیا؟“ لوگوں نے کہا: ابنِ اکوع نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان تمہارا ہے۔“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے، پھر ہم مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج ہمارے بہترین سوار ابوقتادہ ہیں، اور ہمارے بہترین پیدل مجاہد سلمہ ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے: سوار کا حصہ اور پیدل کا حصہ، دونوں۔
اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے، پھر ہم مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج ہمارے بہترین سوار ابوقتادہ ہیں، اور ہمارے بہترین پیدل مجاہد سلمہ ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے: سوار کا حصہ اور پیدل کا حصہ، دونوں۔
اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔“
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ، وَعَامِرٌ يَرْتَجِزُ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: عَامِرٌ، فَقَالَ: «غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ يَا عَامِرُ» وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَعَهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ، وَهُوَ مَلِكُهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
فَبَرَزَ لَهُ عَامِرٌ، فَقَالَ:
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ
فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْتَقْبِلُ بِهِ، فَرَجَعَ سَيْفُهُ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ الْجُحْفَةَ، وَكَانَتْ نَفْسُهُ فِيهَا، وَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ هَذَا؟» قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، قَالَ: «كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ»
ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَقَ فِي عَيْنَهِ، فَبَرَأَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، ثُمَّ خَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ:
[البحر الرجز]
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:
[البحر الرجز]
أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ
أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ
فَضَرَبَهُ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ، فَقَتَلَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
[البحر الرجز]
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: عَامِرٌ، فَقَالَ: «غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ يَا عَامِرُ» وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَعَهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ، وَهُوَ مَلِكُهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
فَبَرَزَ لَهُ عَامِرٌ، فَقَالَ:
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ
فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْتَقْبِلُ بِهِ، فَرَجَعَ سَيْفُهُ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ الْجُحْفَةَ، وَكَانَتْ نَفْسُهُ فِيهَا، وَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ هَذَا؟» قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، قَالَ: «كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ»
ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ» فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَقَ فِي عَيْنَهِ، فَبَرَأَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، ثُمَّ خَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ:
[البحر الرجز]
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:
[البحر الرجز]
أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ
أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ
فَضَرَبَهُ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ، فَقَتَلَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (رجز کے اشعار میں) ”اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے، اور ہم تیرے فضل سے کبھی بے نیاز نہیں ہوئے، پس ہمارے قدم جما دے اگر مقابلہ ہو، اور ہم پر سکینت نازل فرما۔“ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: عامر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیرے گناہ بخش دے، اے عامر۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے کسی ساتھی کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی مگر وہ شہید ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش آپ ہمیں عامر سے زیادہ دیر فائدہ پہنچاتے۔ پھر جب ہم خیبر پہنچے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا، وہ ان کا بادشاہ تھا، اور وہ کہہ رہا تھا: ”خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار سے لیس آزمودہ کار پہلوان ہوں، جب جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں۔“ تو عامر اس کے مقابلے میں نکلے اور کہا: ”خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، ہتھیار سے لیس بہادر پہلوان ہوں۔“ دونوں نے ایک ایک وار کیا، تو مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال میں جا لگی، اور عامر نے اسے وار کرنا چاہا تو ان کی اپنی تلوار پلٹ کر انہیں لگی اور کلائی کی ایک رگ کاٹ گئی، اور اسی میں ان کی جان تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کہنے لگے: عامر کا عمل ضائع ہو گیا، انہوں نے خود کو قتل کر لیا۔ تو میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عامر کا عمل ضائع ہو گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کس نے کہا؟“ میں نے عرض کیا: آپ کے کچھ ساتھیوں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا اس نے غلط کہا، بلکہ اسے دوہرا اجر ملے گا۔“
پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس گیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”میں آج جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اسے محبوب رکھتے ہیں۔“ تو میں انہیں ہاتھ پکڑ کر لے آیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، یہاں تک کہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئی، پھر انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ پھر مرحب نکلا اور کہا: ”خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار سے لیس آزمودہ کار پہلوان ہوں، جب جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں۔“ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا، جنگلوں کے شیر کی طرح، بدہیئت، میں انہیں پورا پورا بدلہ دیتا ہوں، سندرہ کے پیمانے کے برابر۔“ پھر انہوں نے اسے وار کیا اور مرحب کا سر پھاڑ کر اسے قتل کر دیا، اور خیبر کی فتح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس گیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”میں آج جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اسے محبوب رکھتے ہیں۔“ تو میں انہیں ہاتھ پکڑ کر لے آیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، یہاں تک کہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئی، پھر انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ پھر مرحب نکلا اور کہا: ”خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار سے لیس آزمودہ کار پہلوان ہوں، جب جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں۔“ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا، جنگلوں کے شیر کی طرح، بدہیئت، میں انہیں پورا پورا بدلہ دیتا ہوں، سندرہ کے پیمانے کے برابر۔“ پھر انہوں نے اسے وار کیا اور مرحب کا سر پھاڑ کر اسے قتل کر دیا، اور خیبر کی فتح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى هَمَمْنَا بِنَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا بَعْضَ أَزْوَادِكُمْ» فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ، فَمُدَّ، فَجَاءَ الْقَوْمُ بِتَمْرٍ، فَنَثَرُوهُ، فَتَطَاوَلْتُ لَهُ أُحْزِرُهُ أَنْظُرُ كَمْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ كَرَبْضَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلْنَا جَمِيعًا، حَتَّى شَبِعْنَا، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَحَشَوْنَا جُرُبَنَا مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُطْفَةٍ مِنْ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَصُبَّ فِي قَدَحٍ، فَجَعَلْنَا نَتَطَهَّرُ بِهِ، حَتَّى تَطَهَّرْنَا جَمِيعًا
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوازن کے خلاف جنگ کی، تو ہمیں شدید تنگی کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ہم نے اپنی کچھ سواریاں ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا، تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کچھ زادِ راہ جمع کرو۔“ چنانچہ نبی اللہ ﷺ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھانے کا حکم دیا، تو بچھایا گیا، اور لوگ کھجوریں لے آئے اور انہیں اس پر ڈال دیا، میں نے اسے اندازہ کرنے کے لیے دیکھا کہ یہ کتنی ہیں؟ تو وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھیں، ہم سب نے مل کر کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے، جبکہ ہم چودہ سو افراد تھے، پھر ہم نے اپنی خورجیاں اس سے بھر لیں، پھر نبی اللہ ﷺ نے ایک برتن سے تھوڑا سا پانی منگوایا، اسے ایک پیالے میں ڈالنے کا حکم دیا، پھر ہم نے اس سے وضو کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ عَقُوقٍ يَتْبَعُهَا مُهْرُهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللهِ» قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَمَتَى نُمْطَرُ؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَمَا فِي بَطْنِ فَرَسِي؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَأَعْطِنِي سَيْفَكَ؟ قَالَ: «هَا» فَأَخَذَهُ، فَسَلَّهُ ثُمَّ هَذَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ الَّذِي أَرَدْتَ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَقْبَلَ، فَقَالَ آتِيهِ فَأَسْأَلُهُ , ثُمَّ آخُذُ سَيْفِي فَأَقْتُلُهُ» فَغَمَدَ السَّيْفَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سرخ خیمے میں تھے کہ ایک شخص ایک حاملہ گھوڑی پر سوار آیا جس کے پیچھے اس کا بچہ بھی تھا، تو اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے پوچھا: ہمیں بارش کب ملے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے پوچھا: میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: مجھے اپنی تلوار دیجیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لو۔“ تو اس نے وہ لے کر میان سے نکالی اور اسے ہلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کام کی ہرگز طاقت نہیں رکھو گے جو تم چاہتے تھے۔“ پھر فرمایا: ”یہ شخص آیا اور اس نے سوچا کہ اس کے پاس جا کر اس سے سوال کروں گا، پھر اپنی تلوار لے کر اسے قتل کر دوں گا۔“ تو اس نے تلوار میان میں کر لی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ عَمِّي بِرَجُلٍ مِنْ عَجْلَانَ يَقُودُ بِهِ وَبِفَرَسِهِ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، حَتَّى وَقَفَ بِهِمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُمْ» قَالَ: فَعَقَلَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: ٢٤] الْآيَةَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا قبیلہ عجلان کے ایک شخص کو اور اس کے گھوڑے کو ستر مشرکین کے ہمراہ لے کر آئے، یہاں تک کہ انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹھہرے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف سے دیت ادا کر دی، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی سرزمین میں، تمہیں ان پر غالب کرنے کے بعد، ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے“ [سورۃ الفتح: 24]
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «جَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا قُدَّامَهُ , وَهَذَا خَلْفَهُ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اللہ ﷺ آئے جبکہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کے خچر شہباء پر سوار تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ انہیں اپنے حجرے میں لے گئے، یہ آپ کے آگے تھے اور یہ آپ کے پیچھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا الْعَبَّاسُ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْتُ أَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ؟، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَشَدَّ حَرًّا يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقْبِلَيْنِ» ، لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بخار میں مبتلا شخص کی عیادت کی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اس سے زیادہ شدید گرمی کبھی نہیں دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں قیامت کے دن کی سب سے شدید گرمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ ان دونوں سوار آنے والے شخصوں کی ہے“ — یہ بات آپ ﷺ نے اس وقت اپنے ساتھیوں میں سے دو آدمیوں کے بارے میں فرمائی۔