المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن عمار، عن إياس بن سلمة، عن أبيه باب: عکرمہ بن عمار کی ایاس بن سلمہ کے واسطے سے ان کے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ قُعُودٌ نَتَضَحَّى، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ، فَقَيَّدَ بِهِ بَعِيرَهُ، ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى , فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ رِقَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو حَتَّى أَتَى بَعِيرَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ يَرْكَبُهُ، وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ، فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلِي، فَلَحِقْتُهُ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْبَعِيرِ، فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِنَاقَتِهِ أَقُودُهَا , عَلَيْهَا سَلَبُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟» قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «لَكَ سَلَبُهُ أَجْمَعُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ
حَدَّثَنَا، أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ» ، ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ جَمِيعًا
وَبِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوازن سے جنگ کی، ہم چاشت کے وقت بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص سرخ اونٹ پر آیا، اس نے اونٹ کے پالان کی پچھلی رسی سے ایک رسی کھینچی اور اس سے اپنا اونٹ باندھ دیا، پھر چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا، اس نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو (دیکھا کہ) ان کی سواریاں کمزور ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل ہیں، جب اس نے لوگوں کا جائزہ لے لیا تو دوڑتا ہوا نکلا یہاں تک کہ اپنے اونٹ کے پاس آیا، اس پر بیٹھا اور اسے دوڑاتا ہوا نکل گیا، وہ کافروں کا جاسوس تھا۔ ہم میں سے قبیلہ اسلم کا ایک شخص اپنی خاکستری اونٹنی پر اس کے پیچھے لگا، اور میں بھی پیدل دوڑتا ہوا اس کے پیچھے گیا اور اس سے جا ملا، میں اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس تھا، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی، پھر میں نے اپنی تلوار کھینچی اور اس کے سر پر وار کیا، پھر میں اس کی اونٹنی کو کھینچتا ہوا لے آیا جس پر اس کا سامان لدا تھا، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ مجھے ملے اور پوچھا: ”اس شخص کو کس نے قتل کیا؟“ لوگوں نے کہا: ابنِ اکوع نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان تمہارا ہے۔“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے، پھر ہم مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج ہمارے بہترین سوار ابوقتادہ ہیں، اور ہمارے بہترین پیدل مجاہد سلمہ ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے: سوار کا حصہ اور پیدل کا حصہ، دونوں۔
اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔“