حدیث نمبر: 6218
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ عَقُوقٍ يَتْبَعُهَا مُهْرُهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللهِ» قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَمَتَى نُمْطَرُ؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَمَا فِي بَطْنِ فَرَسِي؟ قَالَ: «غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ» قَالَ: فَأَعْطِنِي سَيْفَكَ؟ قَالَ: «هَا» فَأَخَذَهُ، فَسَلَّهُ ثُمَّ هَذَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ الَّذِي أَرَدْتَ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَقْبَلَ، فَقَالَ آتِيهِ فَأَسْأَلُهُ , ثُمَّ آخُذُ سَيْفِي فَأَقْتُلُهُ» فَغَمَدَ السَّيْفَ
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سرخ خیمے میں تھے کہ ایک شخص ایک حاملہ گھوڑی پر سوار آیا جس کے پیچھے اس کا بچہ بھی تھا، تو اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے پوچھا: ہمیں بارش کب ملے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے پوچھا: میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ غیب کی بات ہے، اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: مجھے اپنی تلوار دیجیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لو۔“ تو اس نے وہ لے کر میان سے نکالی اور اسے ہلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کام کی ہرگز طاقت نہیں رکھو گے جو تم چاہتے تھے۔“ پھر فرمایا: ”یہ شخص آیا اور اس نے سوچا کہ اس کے پاس جا کر اس سے سوال کروں گا، پھر اپنی تلوار لے کر اسے قتل کر دوں گا۔“ تو اس نے تلوار میان میں کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6218
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 18، حدیث 6245