المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن عمار، عن إياس بن سلمة، عن أبيه باب: عکرمہ بن عمار کی ایاس بن سلمہ کے واسطے سے ان کے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى الْمَاءِ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجْتُ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَنِي، ثُمَّ لَقِيَنِي مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ , فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ، لِلَّهِ أَبُوكَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، وَهِيَ لَكَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي فِي السُّوقِ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، مَا فَعَلَتِ الْمَرْأَةُ , لِلَّهِ أَبُوكَ» ، قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَفَكَّهُمْ بِهَا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِسیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی عطا کی، میں نے مدینہ پہنچنے تک اس کا کپڑا بھی نہ ہٹایا، پھر میں نکلا اور میں نے اس کا کپڑا نہیں ہٹایا تھا، تو مجھے رسول اللہ ﷺ ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! یہ عورت مجھے دے دو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، یہ مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں ہٹایا۔ تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر اگلے دن بازار میں مجھے ملے تو فرمایا: ”اے سلمہ! یہ عورت مجھے دے دو، اللہ تمہارے باپ کو بھلائی دے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں نے اس کا کپڑا نہیں ہٹایا، اور یہ آپ کے لیے حاضر ہے۔ جب اگلا دن ہوا تو بازار میں مجھے ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! اس عورت کا کیا ہوا، اللہ تمہارے باپ کو بھلائی دے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اہلِ مکہ کے پاس بھیج دیا، جن کے پاس مسلمانوں کے کچھ قیدی تھے، تو آپ ﷺ نے اس عورت کے بدلے انہیں فدیہ دے کر چھڑا لیا۔