المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ نَجَبَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «أَمَّا حَسَنٌ فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخُوَانٍ، وفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةَ عُصْفُورٍ. وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَصَاحِبُ لَهْوٍ وَظِلٍّ وَبَاطِلٍ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ، وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ فَأَنَا وَحُسَيْنٌ، فَإِنَّا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا، وَاللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَيْكُمْ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ، وَفَسادِكِمْ فِي أَرْضِكُمْ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وخِيانِتِكُمْ، وبِطَوَاعِيَتِهِمْ إِمَامَهُمْ ومَعْصِيَتِكُمْ لَهُ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ، وتَفَرُّقِكُمْ عَلَى حَقِّكُمْ، حَتَّى تَطُولَ دَوْلَتُهُمْ، حَتَّى لَا يَدَعُوا لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ، وَلَا يَبْقَى مَدَرٌ وَلَا وَبَرٌ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ، إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهُ سَبَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غِنًى أَحْسَنَكُمْ بِاللهِ ظَنًّا، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللهُ بِعافِيَةٍ فَاقْبَلُوا، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا، فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ»مسیب بن نجبہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنے خاص لوگوں اور اپنے اہل بیت کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”حسن تو دسترخوان اور کھانے کے پیالے والا انسان ہے، نوجوانوں میں سے ایک نوجوان، اور اگر زینِ اونٹ کے دونوں حلقے آپس میں مل جائیں (یعنی جنگ سخت ہو جائے) تو وہ جنگ میں تمہارے کسی کام نہ آئے گا، ایک چڑیا کے پھندے کے برابر بھی نہیں۔ رہا عبداللہ بن جعفر، تو وہ کھیل کود، آرام اور بےمقصد چیزوں والا انسان ہے، اور عباس کے دونوں بیٹے تمہیں دھوکہ نہ دیں۔ رہا میں اور حسین، تو میں میں ہوں اور حسین حسین ہے، ہم تم میں سے ہیں اور تم ہم میں سے ہو۔ اللہ کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اپنی سرزمین میں اپنی نیکی، اور تمہاری سرزمین میں تمہاری خرابی کے سبب تم پر غالب کر دیے جائیں گے، اور اپنی امانت داری اور تمہاری خیانت کے سبب، اور اپنے امام کی اطاعت اور تمہاری نافرمانی کے سبب، اور اپنے باطل پر ان کے اتحاد اور تمہارے حق پر تمہارے انتشار کے سبب، یہاں تک کہ ان کی حکومت طویل ہو جائے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ کی حرام کردہ کوئی چیز نہیں چھوڑیں گے مگر اسے حلال کر لیں گے، اور کوئی مٹی کا گھر ہو یا بالوں کا خیمہ، ہر جگہ ان کا ظلم پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے ہر ایک ان کا پیروکار بن جائے گا، اور یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی ان کی حمایت اس غلام کی حمایت جیسی ہو جائے گی جو اپنے آقا کے سامنے ہو تو اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ غائب ہو تو اسے گالیاں دے، اور یہاں تک کہ تم میں سے سب سے زیادہ مالدار وہی ہو گا جس کا اللہ کے بارے میں گمان سب سے اچھا ہو۔ تو اگر اللہ تمہیں عافیت دے تو قبول کرو، اور اگر تمہیں آزمایا جائے تو صبر کرو، کیونکہ انجام متقین ہی کے لیے ہے۔“