المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: " كَانَ الْحُسَيْنُ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ، فَأَوْسَعَ النَّاسُ لَهُ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا فِرَاسٍ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ:
[البحر البسيط]
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ ... وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ
هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللهِ كُلِّهِمُ ... هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ
يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانَ رَاحَتِهِ ... رُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ
إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ... إِلَى مَكارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرْمُ
يُغْضِي حَيَاءً ويُغْضَى مِنْ مَهابَتِهِ ... فَمَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ
فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبَقٌ ... بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ
مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ نَبْعَتُهُ ... طَابَتْ عَناصِرُهُ وَالْخَيْمُ وَالشِّيَمُ
لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بَعْدَ غَايَتِهِمْ ... وَلَا يُدانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرُمُوا
أَيُّ الْعَشائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ... لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوْ لَهُ نِعَمُ "سلیمان بن ہیثم کہتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دینا چاہا، تو لوگوں نے ان کے لیے راستہ کھول دیا، جبکہ فرزدق بن غالب انہیں دیکھ رہا تھا، تو ایک شخص نے پوچھا: اے ابوفراس! یہ کون ہیں؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے: یہ وہ ہستی ہیں جن کے قدموں کو بطحاء پہچانتی ہے، اور بیت اللہ انہیں پہچانتا ہے، اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی۔
یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، یہ پرہیزگار، پاکیزہ، پاک اور ممتاز ہستی ہیں۔
رکنِ حطیم گویا انہیں پہچان کر تھام لینا چاہتا ہے، جب وہ اسے چھوتے ہیں۔
جب قریش انہیں دیکھتی ہے تو ان میں سے کوئی کہنے والا کہہ اٹھتا ہے: بزرگی کی انتہا اسی کی بزرگیوں پر ہوتی ہے۔
وہ حیا سے اپنی نگاہ جھکائے رکھتے ہیں، اور ان کی ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں، تو ان سے بات نہیں کی جاتی مگر جب وہ مسکرائیں۔
ان کے ہاتھ میں ایک عصا ہے جس کی خوشبو مہک رہی ہے، ایک بارعب ہستی کے ہاتھ میں، جن کی ناک میں وقار جھلکتا ہے۔
ان کی شاخ رسول اللہ ﷺ سے پھوٹی ہے، ان کے عناصر، فطرت اور اخلاق پاکیزہ ہیں۔
کوئی سخی ان کی حد کو نہیں پہنچ سکتا، اور کوئی قوم ان کے قریب نہیں آ سکتی خواہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو۔
کون سا قبیلہ ایسا ہے جس کی گردن پر ان کی برتری کا احسان نہ ہو، یا جسے ان کی نعمتیں حاصل نہ ہوں؟