حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» قَالَ سُفْيَانُ: «تَفْسِيرُهُ قَاطِعُ رَحِمٍ» ، وَاللَّفْظُ لِلْحُمَيْدِيِّ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
سفیان کہتے ہیں: اس کی تفسیر ہے: رشتہ داری توڑنے والا۔
سفیان کہتے ہیں: اس کی تفسیر ہے: رشتہ داری توڑنے والا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ح وثنا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» زَادَ بَقِيَّةُ فِي حَدِيثِهِ: «رَحِمٍ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
بقیہ (راوی) نے اپنی روایت میں ”رحمی“ کا اضافہ کیا ہے۔
بقیہ (راوی) نے اپنی روایت میں ”رحمی“ کا اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الصَّدَفِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وثنا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم ﷺ سے مروی ہے: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ» قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: وَمَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: «الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میرے کئی نام ہیں، میں احمد ہوں، اور میں محمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں“، راوی کہتے ہیں: میں نے زہری سے پوچھا: عاقب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ الْبَخْتَرِيُّ الطَّائِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِي خَمْسَةَ أَسْمَاءٍ أَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میرے پانچ نام ہیں، میں احمد ہوں، اور میں محمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ، الَّذِي لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے کفر مٹایا جاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ، الَّذِي لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَأَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي أَمْحُو الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي أَحْشُرُ النَّاسَ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ، الَّذِي لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے میں کفر مٹاتا ہوں، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر میں لوگوں کو اکٹھا کروں گا، اور میں عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ» ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ، وَقَدْ سَمَّاهُ اللهُ رَءُوفًا رَحِيمًا
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے کفر مٹایا جاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں“، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی اور نہیں، اور اللہ نے اسے ”رؤف رحیم“ (نہایت شفیق، مہربان) بھی نام دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَالْحَاشِرُ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَالْعَاقِبُ» فَسَأَلْتُ سُفْيَانَ مَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: «آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، اللہ میرے ذریعے کفر مٹاتا ہے، اور حاشر، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور عاقب“، راوی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: عاقب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”سب سے آخری نبی۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفَّارَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور احمد، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کافروں کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفَّارَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کافروں کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الطِّيبُ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُّوسٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِي خَمْسَةَ أَسْمَاءٍ، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ، الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پانچ نام ہیں، میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ: «إِنَّكُمْ قَدْ فَعَلْتُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا فَعَلْتُمْ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ» ، فَقَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ: «بَلْ كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ» ، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ: «وَاللهِ لَا يَزَالُ أَمْرُ مُحَمَّدٍ ظَاهِرًا فِيمَا بَادَأَكُمْ، أَوْ أَسَرَّ مِنْكُمْ» قَالَ أَبُو يُوسُفَ: «قُتِلَ الْحَارِثُ، يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مطعم بن عدی نے کہا: ”تم نے محمد ﷺ کے ساتھ جو کچھ کیا سو کیا، اب لوگوں میں سب سے زیادہ ان سے ہاتھ روکنے والے بنو“، تو ابوجہل بن ہشام نے کہا: ”بلکہ جیسے تم اس پر (سخت) تھے ویسے ہی سخت رہو“، اس پر حارث بن عامر بن نوفل نے کہا: ”اللہ کی قسم، محمد کا معاملہ ہمیشہ غالب رہے گا، چاہے تم اس کا آغاز کرو یا اسے چھپاؤ۔“
ابویوسف کہتے ہیں: حارث یومِ بدر کفر کی حالت میں مارے گئے۔
ابویوسف کہتے ہیں: حارث یومِ بدر کفر کی حالت میں مارے گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ الطَّحَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ بِالْمَدِينَةِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، مُنْصَرَفُهُ عَنْ حَمْزَةَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ نَزَلَ يَثْرِبَ، وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طَرِيقَهُ، وَأَنْ تُقَارِبُوهُ، فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي، إِنَّهُ حَنَقَ عَلَيْكُمْ نَفَيْتُمُوهُ، نَفْيَ الْقِرْدَانِ عَلَى الْمَنَاسِمِ، وَاللهِ إِنَّ لَهُ لَسَحَرَةً، مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ، وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ، إِلَّا رَأَيْتَ مَعَهُمُ الشَّيَاطِينَ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنَيْ قَيْلَةَ، فَهُوَ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ، فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، وَاللهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا، أَصْدَقَ لِسَانًا، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا مِنْ أَخِيكُمْ، الَّذِي طَرَدْتُمْ فَإِذْ فَعَلْتُمْ، الَّذِي فَعَلْتُمْ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ: كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، فَإِنَّ ابْنَيْ قَيْلَةَ إِنْ ظَفِرُوا بِكُمْ، لَمْ يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً، وَإِنْ أَطْعَمْتُمُونَنِي أَلْحَمْتُمُوهمْ خَبَرَ كِنَانَةَ، أَوْ يُخْرِجُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ فَيَكُونَ وَحِيدًا مَطْرُودًا، وَأَمَّا ابْنَا قَيْلَةَ، فَوَاللهِ مَا هُمَا، وَأَهْلُ دَهْلِكَ فِي الْمَذَلَّةِ، إِلَّا سَوَاءٌ، وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ، وَقَالَ:
[البحر الوافر]
سَأَمْنَحُ جَانِبًا مِنِّي غَلِيظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرْبٍ وَبُعْدِ
رِجَالُ الْخَزْرَجِيَّةِ أَهْلُ ذُلٍّ ... إِذَا مَا كَانَ هَزْلٌ بَعْدَ جَدِّ
فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ، وَلَأُصَلِّبَنَّهُمْ، وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ، وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ، بَعَثَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَتَوَفَّانِي حَتَّى يُظْهِرَ اللهُ دِينَهُ، لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى يَدَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا
[البحر الوافر]
سَأَمْنَحُ جَانِبًا مِنِّي غَلِيظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرْبٍ وَبُعْدِ
رِجَالُ الْخَزْرَجِيَّةِ أَهْلُ ذُلٍّ ... إِذَا مَا كَانَ هَزْلٌ بَعْدَ جَدِّ
فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ، وَلَأُصَلِّبَنَّهُمْ، وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ، وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ، بَعَثَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَتَوَفَّانِي حَتَّى يُظْهِرَ اللهُ دِينَهُ، لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى يَدَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا
ترجمہ
…میں اپنی طرف سے ایک سخت پہلو رکھوں گا، چاہے قربت رہی ہو یا دوری۔
خزرجی مرد ذلت والے ہیں، جب مذاق کے بعد سنجیدگی آئے۔
یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں انہیں ضرور قتل کروں گا، اور ضرور سولی دوں گا، اور ضرور انہیں ہدایت دوں گا چاہے وہ ناپسند کریں، بیشک میں رحمت ہوں، مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے، اور مجھے موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ اللہ اپنا دین غالب کر دے، میرے پانچ نام ہیں، میں محمد ہوں، اور احمد، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، لوگ میرے ہاتھوں پر اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
احمد بن صالح کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
خزرجی مرد ذلت والے ہیں، جب مذاق کے بعد سنجیدگی آئے۔
یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں انہیں ضرور قتل کروں گا، اور ضرور سولی دوں گا، اور ضرور انہیں ہدایت دوں گا چاہے وہ ناپسند کریں، بیشک میں رحمت ہوں، مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے، اور مجھے موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ اللہ اپنا دین غالب کر دے، میرے پانچ نام ہیں، میں محمد ہوں، اور احمد، اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں، لوگ میرے ہاتھوں پر اکٹھے کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں۔“
احمد بن صالح کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكِسَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: «اذْهَبُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ، نَزُورُ الْبَصِيرَ» قَالَ سُفْيَانُ: «حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ الْبَصِيرُ ضَرِيرَ الْبَصَرِ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے: ”چلو ہم بنو واقف کے پاس چلیں، البصیر کی زیارت کریں“
سفیان کہتے ہیں: یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے، اور البصیر نابینا تھے۔
سفیان کہتے ہیں: یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے، اور البصیر نابینا تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْجَمَّالُ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: «اذْهَبُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ، نَزُورُ الْبَصِيرَ» قَالَ سُفْيَانُ: «حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ مَحْجُوبَ الْبَصَرِ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے: ”چلو ہم بنو واقف کے پاس چلیں، البصیر کی زیارت کریں“
سفیان کہتے ہیں: یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے، اور وہ بینائی سے محروم تھے۔
سفیان کہتے ہیں: یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے، اور وہ بینائی سے محروم تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ السَّفَرِ، إِلَّا بِالْإِقَامَةِ، إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر کی کسی بھی نماز میں اذان نہیں کہلواتے تھے، صرف اقامت کہلواتے تھے، سوائے فجر کے، کہ اس کے لیے آپ ﷺ اذان اور اقامت دونوں کہلواتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ عَتَّابِ بْنِ بِشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ حِينَ دَفَعَ إِلَيْهِ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ: «هَاؤُمْ غَيِّبْهُ» ، قَالَ: فَلِذَلِكَ يُغَيَّبُ الْمِفْتَاحُ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہ سے، جب انہیں کعبہ کی چابی واپس دی، فرمایا: ”یہ لو، اسے چھپا کر رکھو۔“ راوی کہتے ہیں: اسی وجہ سے چابی چھپا کر رکھی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عُمَرَ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ وَلَدِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ سَعِيدٍ، وَهِي جَدَّتِي، عَنْ أَبِيهَا سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كُنْتُ بِأَدْنَى الشَّامِ، " لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ رَجُلٌ تَنَبَّأَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ صُورَتَهُ إِذَا رَأَيْتَهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيهِ صُوَرٌ، فَلَمْ أَرَ صُورَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَاعةَ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى صُورَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْقَائِمُ عَلَى عَقِبِهِ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ، إِلَّا كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا هَذَا، فَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَهَذَا الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَإِذَا صِفَةُ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ "
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں زمانۂ جاہلیت میں تجارت کے لیے شام کی طرف نکلا، جب میں شام کے قریب ترین حصے میں پہنچا تو مجھے اہلِ کتاب میں سے ایک شخص ملا، اس نے کہا: کیا تمہارے یہاں کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا تم اس کی صورت پہچانتے ہو اگر دیکھو؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے مجھے ایک گھر میں لے گیا جس میں تصویریں تھیں، تو میں نے نبی کریم ﷺ کی تصویر نہیں دیکھی۔ میں اسی حال میں تھا کہ ان میں سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور کہا: تم کس بارے میں (بات کر رہے) ہو؟ ہم نے اسے بتایا تو وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا، جوں ہی میں داخل ہوا تو میں نے نبی کریم ﷺ کی تصویر دیکھی، اور ایک اور شخص کو دیکھا جو نبی کریم ﷺ کی ایڑی تھامے ہوئے تھا۔ میں نے کہا: یہ کون شخص ہے جو ان کی ایڑی پر کھڑا ہے؟ اس نے کہا: کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے بعد کوئی اور نبی نہ آیا ہو، سوائے اس کے، کیونکہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں، اور یہ ان کے بعد کے خلیفہ ہیں۔ اور وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صورت تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ رِشْدِينَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لَقَسَتْ نَفْسِي»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میری جان خبیث ہو گئی، بلکہ یہ کہے کہ میری جان بھاری ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْجُحْفَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّ الْقُرْآنَ جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟» ، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَبْشِرُوا فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ، وَلَا تُهْلَكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم جحفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ کہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو خوش ہو جاؤ، کیونکہ اس قرآن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، اسے مضبوطی سے پکڑو، اس کے بعد کبھی ہلاک نہیں ہو گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا، وَفُلَانُ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ، وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ، وَهُمْ إِلَيْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ»
ترجمہ
… نبی کریم ﷺ کے پاس (کچھ لوگ آئے)، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو (مال) دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہم اور وہ آپ کے نزدیک ایک ہی درجے میں ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى التُّوزِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِالْخَيْفِ خَيْفِ مِنًى: " نَضَّرَ اللهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَها وَوَعَاهَا وَبَلَّغَهَا مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرَبُّ حَامِلِ فِقْهٍ، إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ، تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ "
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خیفِ منیٰ میں یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور محفوظ کیا، پھر اسے اس تک پہنچایا جس نے نہ سنا ہو، کیونکہ بسا اوقات فقہ (سمجھ) اٹھانے والا خود فقیہ نہیں ہوتا، اور بسا اوقات فقہ اٹھانے والا اسے کسی ایسے شخص تک پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ سمجھدار ہو۔ تین چیزیں ہیں جن پر مومن کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے عمل کا اخلاص، مسلمانوں کے حکمرانوں کی خیرخواہی، اور ان کی جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعوت ان کے پیچھے رہنے والوں کا احاطہ کرتی ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ خیفِ منیٰ میں کھڑے ہوئے، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْفِ مِنًى، يَقُولُ: " نَضَّرَ اللهُ عَبْدًا، سَمِعَ مَقَالَتِي، فَحَفِظَها ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى، مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرَبُّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَطَاعَةُ ذَوِي الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خیفِ منیٰ میں یہ فرماتے سنا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا، پھر اسے اس تک پہنچایا جس نے نہ سنا ہو، کیونکہ بسا اوقات فقہ اٹھانے والا خود فقیہ نہیں ہوتا، اور بسا اوقات فقہ اٹھانے والا اسے کسی ایسے شخص تک پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ سمجھدار ہو۔ تین چیزیں ہیں جن پر مومن کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے عمل کا اخلاص، حکمرانوں کی اطاعت، اور جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعوت ان کے پیچھے رہنے والوں کا احاطہ کرتی ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ، قَالَ: " نَضَّرَ اللهُ عَبْدًا، سَمِعَ مَقَالَتِي، فَوَعَاهَا، وأَدَّاها، إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبُّ حَامِلِ، فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرَبُّ حَامِلِ فِقْهٍ، إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالطَّاعَةُ لِذَوِي الْأَمْرِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ؛ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ، تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ "
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے محفوظ کیا اور اسے اس تک پہنچایا جس نے نہ سنا ہو، کیونکہ بسا اوقات فقہ اٹھانے والا خود فقیہ نہیں ہوتا، اور بسا اوقات فقہ اٹھانے والا اسے کسی ایسے شخص تک پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ سمجھدار ہو۔ تین چیزیں ہیں جن پر مومن کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے عمل کا اخلاص، حکمرانوں کی اطاعت، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعوت ان کے پیچھے رہنے والوں کا احاطہ کرتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَجُلًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» ، فَلَمَّا أَتَى جِبْرِيلُ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: «أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي، حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: «لَا أَدْرِي» ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي، فَقُلْتُ: أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ قَالَ: أَسْوَاقُهَا
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: سب سے بری جگہ کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم۔“ پھر جب جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”سب سے بری جگہ کون سی ہے؟“ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھوں۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام چلے گئے، جتنی دیر اللہ نے چاہی وہ رکے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ سب سے بری جگہ کون سی ہے، تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، پھر میں نے اپنے رب سے پوچھا، میں نے کہا: سب سے بری جگہ کون سی ہے؟ اس نے فرمایا: ان کے بازار۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ح وثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ح وثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَضَاعَ الْعِيَالُ، وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَنَهَكَتِ الْأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللهِ، وَنَسْتَشْفِعُ بِاللهِ عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ تَدْرِي مَا تَقُولُ؟» فَسَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ، حَتَّى عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللهِ عَلَى أَحَدٍ، مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ تَدْرِي مَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ، وَأَرْضِهِ هَكَذَا» ، وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ «مِثْلَ الْقُبَّةِ، وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ»
ترجمہ
… بچے ضائع ہو گئے، مویشی ہلاک ہو گئے، جانور کمزور ہو گئے، آپ ہمارے لیے اللہ عزوجل سے بارش کی دعا کریں، ہم آپ کو اللہ کے حضور سفارشی بناتے ہیں، اور اللہ کو آپ پر سفارشی بناتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! تجھے معلوم ہے تو کیا کہہ رہا ہے؟“ پھر رسول اللہ ﷺ سبحان اللہ کہنے لگے، آپ ﷺ برابر سبحان اللہ کہتے رہے یہاں تک کہ یہ بات آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں پر ظاہر ہو گئی، پھر فرمایا: ”تجھ پر افسوس! اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی پر سفارشی نہیں بنایا جاتا، اللہ کی شان اس سے کہیں بڑی ہے، تجھ پر افسوس! کیا تجھے معلوم ہے اللہ عزوجل کیا ہے؟ بیشک اس کا عرش اس کے آسمانوں اور زمینوں پر اس طرح ہے“، اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا، ”جیسے گنبد، اور وہ اس کے نیچے اس طرح چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے نیچے چرچراتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْتَلِي عَبْدَهُ، بِالسَّقَمِ، حَتَّى يُكَفِّرَ عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل اپنے بندے کو بیماری کے ذریعے آزماتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے ہر گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
…