حدیث نمبر: 1532
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَجُلًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» ، فَلَمَّا أَتَى جِبْرِيلُ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: «أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي، حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: «لَا أَدْرِي» ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي، فَقُلْتُ: أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ قَالَ: أَسْوَاقُهَا
ترجمہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: سب سے بری جگہ کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم۔“ پھر جب جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”سب سے بری جگہ کون سی ہے؟“ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھوں۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام چلے گئے، جتنی دیر اللہ نے چاہی وہ رکے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ سب سے بری جگہ کون سی ہے، تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، پھر میں نے اپنے رب سے پوچھا، میں نے کہا: سب سے بری جگہ کون سی ہے؟ اس نے فرمایا: ان کے بازار۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1532
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 128، حدیث 1545