کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نافع بن جبیر بن مطعم کی اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ الْكُوفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ، فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز، اس کے سوا کسی بھی دوسری مسجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجدِ حرام کے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمَاحِي، وَالْخَاتَمُ، وَالْعَاقِبُ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں محمد ہوں، اور احمد، اور حاشر، اور ماحی، اور خاتم، اور عاقب۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْعَاقِبُ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمَاحِي»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں محمد ہوں، اور احمد، اور عاقب، اور حاشر، اور ماحی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَابْنُ عَائِشَةَ ح وثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَقَالَ: «مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ، لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟» فَقَالَ: بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ، فَضَرَبَ عَلَى آذَانِهِمْ، حَتَّى أَيْقَظَهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ، ثُمَّ قَامُوا، فَقَادُوا رِكَابَهُمْ، ثُمَّ تَوَضَّئُوا، وَأَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ صَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ہماری نگرانی کون کرے گا کہ ہم فجر کی نماز سے سو نہ جائیں؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ چنانچہ وہ سورج نکلنے کی سمت رخ کر کے بیٹھ گئے، تو ان کے کانوں پر (نیند کی) ضرب پڑی، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں جگا دیا، پھر وہ سب کھڑے ہوئے، اپنی سواریاں لے کر چلے، پھر وضو کیا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر انہوں نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر فجر کی نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، پھر فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنْ وُلِّيتُمْ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَلَا تَمْنَعُوا طَائِفًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ، أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ، وِ النَّهَارِ»
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو عبد مناف! اگر تمہیں کسی دن یہ ذمہ داری ملے تو رات یا دن کی کسی بھی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنے والے کو نہ روکنا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةٍ، فَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» قَالَ عَمْرُو: نَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں داخل ہوتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اکبر کبیرا“ تین بار، ”والحمد للہ کثیرا“ تین بار، ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اس کے پھونکنے، اس کے تھوکنے اور اس کے دھکیلنے سے“
عمرو کہتے ہیں: اس کا پھونکنا تکبر ہے، اور اس کا دھکیلنا مرگی ہے، اور اس کا تھوکنا شعر ہے۔
عمرو کہتے ہیں: اس کا پھونکنا تکبر ہے، اور اس کا دھکیلنا مرگی ہے، اور اس کا تھوکنا شعر ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اللہ اکبر کبیرا“ تین بار، ”والحمد للہ کثیرا“ تین بار، ”وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا“ تین بار، ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اس کے دھکیلنے، اس کے پھونکنے اور اس کے تھوکنے سے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً، وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْثِهِ، وَنَفْخِهِ " وَيَقُولُ: «نَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الَّذِي يَمُوتُ فِي بَلَائِهِ»
ترجمہ
…تین بار، اور ”الحمد للہ کثیرا“ تین بار، اور ”سبحان اللہ بکرۃ واصیلا“ تین بار، پھر فرماتے: ”اے اللہ! میں شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اس کے دھکیلنے، اس کے تھوکنے اور اس کے پھونکنے سے“، اور فرماتے: ”اس کا تھوکنا شعر ہے، اور اس کا پھونکنا تکبر ہے، اور اس کا دھکیلنا وہ ہے جس سے آدمی اپنی مصیبت میں مر جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، حَدَّثَنِي عَمَّارُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى "
ترجمہ
عبدالرحمن بن نافع بن جبیر اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ اپنے رکوع میں ”سبحان ربی العظیم“ اور اپنے سجدے میں ”سبحان ربی الاعلیٰ“ فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا فَرْدُوسُ بْنُ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ، كَفَّارَاتٌ لِلذُّنُوبِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ، فِي السَّبُرَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جمعوں کی طرف پیدل چل کر جانا گناہوں کا کفارہ ہے، اور سردی میں وضو کو مکمل کرنا، اور نمازوں کے بعد اگلی نماز کا انتظار کرنا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسْمًا فِي نَفَرٍ مِنَ النَّاسِ، وَتَبِعَهُ النَّاسُ فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَتْ بِثِيَابِهِ، فَقَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ ثِيَابِي، أَتَخَافُونَ عَلَيَّ، فَوَاللهِ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَقَسَّمْتُهُ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں میں ایک تقسیم کی، لوگ آپ ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے، آپ ﷺ ایک درخت کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پکڑ لیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کپڑے مجھے واپس دو، کیا تمہیں مجھ پر بخل کا خدشہ ہے؟ اللہ کی قسم، اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اسے تقسیم کر دیتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا فَرْدُوسُ بْنُ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَهُوَ عِنْدَ ثَنِيَّةِ الْأَرَاكَةِ، وَهُوَ يُعْطِي حِينَ فَرَغَ مِنْ حُنَيْنٍ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، وَوَجْهُهُ مِثْلُ شُقَّةِ الْقَمَرِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ثنیۃ الاراکہ کے مقام پر تھے، اور آپ ﷺ حنین سے فارغ ہونے کے بعد (مال) تقسیم کر رہے تھے، آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ ﷺ کا چہرہ چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقِفُ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ، مِنْ بَيْنِ قَوْمِهِ، حَتَّى يَدْفَعَ بَعْدَهُمْ تَوْفِيقًا، مِنَ اللهِ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے اونٹ پر عرفات میں اپنی قوم کے درمیان کھڑے دیکھا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان کے بعد کوچ فرمایا، جو اللہ کی طرف سے آپ ﷺ کو خاص توفیق تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ بْنِ النَّاقِدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: " كَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، يَقُولُونَ: نَحْنُ الْحُمْسُ، فَلَا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ، وَتَرَكُوا الْمَوْقِفَ عَلَى عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقِفُ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، وَيَدْفَعُ مَعَهُمْ، حَتَّى يُصْبِحَ مَعَ قَوْمِهِ، بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَيَقَعَ مَعَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُ إِذَا دَفَعُوا "
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: قریش صرف مزدلفہ سے کوچ کیا کرتے تھے، وہ کہتے تھے: ہم حمس ہیں، ہم حرم سے باہر نہیں نکلتے، اور انہوں نے عرفہ میں کھڑے ہونے کو چھوڑ رکھا تھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے ایک اونٹ پر لوگوں کے ساتھ عرفہ میں کھڑے تھے، اور ان کے ساتھ ہی کوچ کرتے تھے، یہاں تک کہ اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں صبح کرتے، وہاں ان کے ساتھ ٹھہرتے، پھر جب وہ کوچ کرتے تو آپ ﷺ بھی کوچ فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، فَلَا تُبَادِرُونِي بِالْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَالرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھاری ہو گیا ہوں، تو نماز میں کھڑے ہونے، رکوع اور سجدے میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔“
ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ الصَّائِغُ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ، إِلَّا شِدَّةً»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں کوئی نیا حلف (اتحاد) نہیں، اور زمانۂ جاہلیت میں جو حلف ہو چکا ہے، اسلام نے اسے اور مضبوط ہی کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ كِلَابِ بْنِ عَلِيٍّ الْوَحِيدِيِّ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْوَةِ فِي عُمْرَتِهِ، وَهُوَ يُقَصِّرُ مِنْ شَعْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا صَرُورَةَ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو مروہ پر، اپنے عمرے میں، اپنے بال کتراتے دیکھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”عمرہ حج میں قیامت تک داخل ہو گیا، کوئی صرورہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَصَّرَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ، وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو مروہ پر تیر کی نوک سے بال کتراتے دیکھا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک داخل ہو گیا۔“
ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ، مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ، مَنْحَرٌ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے، اور عرنہ سے اوپر رہو، اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اوپر رہو، اور ایامِ تشریق کے تمام دن قربانی کے دن ہیں، اور مکہ کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمَادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا ابْنُ دَأَبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَادَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَمِّدُهُ بِخِرْقَةٍ»
ترجمہ
محمد بن نافع بن جبیر اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سعید بن العاص کی عیادت کے لیے تشریف لائے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ انہیں کپڑے سے ٹکور کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَائِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَنِي نُعْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، إِذْ قَدِمْتُهَا، وَأَنَا غَيْرُ، مُسْلِمٍ يَوْمَئِذٍ، فَأَقْدَمُ، وَقَدْ أَصَابَنِي كَرًى شَدِيدٌ، فَنِمْتُ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى فَزِعْتُ بِقِرَاءَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْرَأُ: «وَالطُّورِ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ» فاسْتَرْجَعْتُ، حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا دَخَلَ قَلْبِي الْإِسْلَامَ
ترجمہ
… جب میں اس میں آیا، اور اس وقت میں مسلمان نہیں تھا، تو میں آیا اور مجھے شدید نیند نے آ لیا، میں مسجد میں سو گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی قراءت سے میں چونک اٹھا، آپ ﷺ پڑھ رہے تھے: ”والطور، وکتاب مسطور“، تو میں نے استرجاع کیا، یہاں تک کہ میں مسجد سے نکل آیا، اور یہی سب سے پہلی بات تھی جو میرے دل میں اسلام کی طرف داخل ہوئی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، فَقَالَهَا فِي مَجْلِسِ ذِكْرٍ كَانَ كالطَّابَعُ يُطْبَعُ عَلَيْهِ، وَمَنْ قَالَهَا فِي مَجْلِسِ لَغْوٍ، كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ "
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کہا: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحانک اللہم وبحمدک، اشہد ان لا الہ الا انت، استغفرک واتوب الیک، اور اسے ذکر کی مجلس میں کہا تو وہ اس پر مہر کی طرح ہو جاتا ہے، اور جس نے اسے لغو کی مجلس میں کہا تو وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ الْأَهْوَازِيُّ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ لَا يَقُومَ، حَتَّى يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، تُبْ عَلَيَّ، وَاغْفِرْ لِي يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ لَغَطٍ، كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ، كَانَتْ طَابَعًا عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجلس کا کفارہ یہ ہے کہ آدمی اٹھنے سے پہلے کہے: سبحانک اللہم وبحمدک، لا الہ الا انت، توب علی، واغفر لی، تین بار کہے، اگر مجلس شور و غل کی تھی تو یہ اس کا کفارہ ہو جائے گی، اور اگر ذکر کی مجلس تھی تو یہ اس پر مہر بن جائے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الصُّرَيْفِينِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا، لَا يَمُرُّ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُ، وَبَيْنَهَا»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سترے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کے قریب ہو جائے، تاکہ شیطان اس کے اور سترے کے درمیان سے نہ گزرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ جَبَلَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَلُّ السُّيُوفُ، وَلَا تُنْثَرُ النَّبْلُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُحْلَفُ بِاللهِ فِي الْمَسْجِدِ، وَلَا يُمْنَعُ الْقَائِلَةُ فِي الْمَسَاجِدِ مُقِيمًا، وَلَا ضَيْفًا، وَلَا تُبْنَى بِالتَّصَاوِيرِ، وَلَا تُزَيَّنُ بِالْقَوَارِيرِ، فَإِنَّمَا بُنِيَتْ بِالْأَمَانَةِ، وشُرِّفَتْ بِالْكَرَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مساجد میں تلواریں نہ کھینچی جائیں، اور نہ تیر بکھیرے جائیں، اور نہ مسجد میں اللہ کی قسم کھائی جائے، اور نہ مقیم اور نہ مہمان کو مساجد میں دوپہر کے آرام سے روکا جائے، اور انہیں تصویروں سے آراستہ نہ کیا جائے، اور نہ شیشوں سے مزین کیا جائے، کیونکہ یہ امانت کے ساتھ تعمیر کی گئی ہیں، اور عزت کے ساتھ معزز کی گئی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقَامُ الْحُدُودُ، فِي الْمَسَاجِدِ»
ترجمہ
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مساجد میں حدود قائم نہ کی جائیں۔“