کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ قَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ»
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بعد (اپنے حقوق میں) ترجیح (دوسروں کو دی جاتی) دیکھو گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 204، حدیث 551
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ نا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ يُكْثِرُونَ وَهُمْ يُقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ ذَا حُلَيْفَةَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الصِّبْيَانُ فَيُخْبِرُونَهُمْ عَنْ أَهْلِهِمْ، فَأُخْبِرَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ بِمَوْتِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى، فَقِيلَ لَهُ: أَتَبْكِي؟ فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَبْكِي، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَرْشَ اهْتَزَّ أَعْوَادُهُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انصار میرا (اندرونی راز رکھنے کا) تھیلا اور میرا صندوقچہ ہیں، اور لوگ (دوسری قومیں) بڑھ جائیں گے جبکہ وہ (انصار تعداد میں) کم ہوں گے، تو ان کے نیکوکار سے (نیکی) قبول کرو اور ان کے برے سے درگزر کرو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ میں اترتے، تو بچے ان کے استقبال کے لیے نکلتے اور انہیں اپنے گھر والوں کی خبریں دیتے، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی موت کی خبر دی گئی تو وہ رو پڑے، ان سے کہا گیا: کیا تم روتے ہو؟ انہوں نے فرمایا: میں کیوں نہ روؤں، جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش کے کندے (شاخیں) ہل گئے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 549
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 204، حدیث 552
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا: ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ، وَكَانَ يَقُولُ: " لَوْ أَكُونُ كَمَا أَكُونُ عَلَى حَالٍ مِنْ أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَا شَكَكْتُ فِي ذَلِكَ: حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، أَوْ حِينَ أَسْتَمِعُهُ يُقْرَأُ، وَإِذَا سَمِعْتُ بِخُطْبَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً، وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي سِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا، وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فاضل ترین لوگوں میں سے تھے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر میں ہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت پر رہوں تو یقیناً جنتیوں میں سے ہوں، اور اس میں مجھے کوئی شک نہیں: جب میں قرآن پڑھتا ہوں، یا جب میں اسے پڑھا جاتا سنتا ہوں، اور جب میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ سنتا ہوں، اور جب میں کسی جنازے میں حاضر ہوتا ہوں - اور میں کبھی کسی جنازے میں حاضر نہیں ہوا مگر میں نے اپنے آپ سے اس کے سوا بات نہیں کی جو اس (میت) کے ساتھ ہونے والا ہے اور جس انجام کی طرف وہ بڑھ رہی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 550
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 205، حدیث 554
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: إِذَا سُرِقَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ سَرِقَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا إِذَا وَجَدَهَا، فَكَتَبَ إِلَيَّ مَرْوَانُ بِذَلِكَ، وَأَنَا عَامِلُهُ عَلَى الْيَمَامَةِ، فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَضَى أَنْ إِذَا وَجَدْتَ عِنْدَ الرَّجُلِ غَيْرَ الْمُتَّهَمِ، فَإِنْ شَاءَ سَيِّدُهَا أَخَذَهَا بِالثَّمَنِ، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ» ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَبَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ: إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ، وَلَا أُسَيْدٌ يَقْضِيَانِ عَلَيَّ فِيمَا وُلِّيتُ، وَلَكِنِّي أَقْضِي عَلَيْكُمَا، فَأَنْفِذْ مَا أَمَرْتُكَ بِهِ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَقْضِي بِهِ أَبَدًا
ترجمہ
…اگر کسی شخص سے کوئی چیز چوری ہو اور وہ اپنی چوری شدہ چیز پا لے، تو جب وہ اسے پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ مروان نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا، جبکہ میں اس وقت یمامہ پر اس کا عامل تھا، تو میں نے مروان کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جب تم کسی ایسے شخص کے پاس (چوری شدہ چیز) پاؤ جو مشتبہ نہ ہو، تو اگر اس کا مالک چاہے تو قیمت دے کر لے لے، اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے۔ پھر ان کے بعد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی یہی فیصلہ فرمایا۔ مروان نے میرا خط معاویہ کو بھیج دیا، تو معاویہ نے مروان کو لکھا: نہ تم اور نہ اسید مجھ پر میری ولایت میں فیصلہ کر سکتے ہو، بلکہ میں تم دونوں پر فیصلہ کرتا ہوں، لہٰذا جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے اسے نافذ کرو۔ تو مروان نے معاویہ کا خط مجھے بھیج دیا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی اس (فیصلے) کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 551
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 205، حدیث 555
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ لِيُضْحِكَهُمْ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ، فَقَالَ: أَصْبِرْنِي، فَقَالَ: «اصْطَبِرْ» ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا، وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ، وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ
ترجمہ
…وہ کہتے ہیں: وہ (سیدنا اسید رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، اور ان میں مزاح کی عادت تھی، وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے (مزاحاً) ان کے پہلو میں کچونی ماری، تو انہوں نے عرض کیا: مجھے بدلہ لینے دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے لو۔“ انہوں نے کہا: آپ پر قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو گلے لگا لیا اور آپ ﷺ کے پہلو کو بوسہ دینے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں تو یہی چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 552
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 205، حدیث 556
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُضْحِكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ " وَسَلَّمَ: إِذْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ فِي خَاصِرَتِهِ، قَالَ: قَتَلْتَنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اقْتَصَّ» قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَمْ يَكُنْ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ حَتَّى بَدَا كَشْحُهُ فَاحْتَضَنَهُ، وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، وَيَقُولُ: بِأَبِي وَأُمِّي هَذَا أَرَدْتُ
ترجمہ
…ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس (لوگوں کو) ہنسا رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچونی ماری، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے مار ہی ڈالا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بدلہ لے لو۔“ اس نے کہا: آپ پر قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص اٹھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ کا پہلو ظاہر ہو گیا، تو اس نے آپ ﷺ کو گلے لگا لیا اور آپ ﷺ کے پہلو کو بوسہ دینے لگا اور کہنے لگا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں تو یہی چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 553
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 557
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کر لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 554
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 558
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا»
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو، اور ان کا دودھ پینے سے وضو نہ کرو، اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو، اور ان کا دودھ پینے سے وضو کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 555
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 559
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو الْعَوَّامِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَاضِي الرِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 556
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 560
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ ،
ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا بندھا ہوا تھا،
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 557
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 561
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ كَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ، فَقَرَأَ لَيْلَةً، وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ، وَابْنُهُ نَائِمٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَقَرَأَ فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَقَرَأَ فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَانْصَرَفَ، فَأَخَذَ ابْنَهُ وَخَشِيَ أَنْ يَطَأَهُ الْفَرَسُ، فَأَصْبَحَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ أُسَيْدُ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَمْ تَزَلْ يَسْتَمِعُونَ صَوْتَكَ، فَلَوْ قَرَأْتَ أَصْبَحَتْ ظُلَّةٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ، يَتَرَايَاهَا النَّاسُ فِيهَا الْمَلَائِكَةُ»
ترجمہ
…(تلاوت کے دوران) وہ رک گئے، اپنے بیٹے کو اٹھا لیا کیونکہ انہیں خدشہ ہوا کہ گھوڑا اسے کچل نہ دے، صبح ہوئی تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ فرشتے تمہاری آواز سنتے رہے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح ہوتے ہوتے آسمان اور زمین کے درمیان ایک سائبان بن جاتا جسے لوگ دیکھ سکتے، اس میں فرشتے ہوتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 558
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 206، حدیث 562
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، بَيْنَمَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، قَالَ: إِذْ غَشِيَتْنِي مِثْلُ السَّحَابَةِ فِيهَا مِثْلُ الْمَصَابِيحِ، وَالْمَرْأَةُ نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِي وَهِي حَامِلٌ، وَالْفَرَسُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَنْفِرَ الْفَرَسُ، فَتَفْزَعَ الْمَرْأَةُ، فَتُلْقِيَ وَلَدَهَا، فَانْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْتُ، فَقَالَ: «اقْرَأْهُ يَا أُسَيْدُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَلَكٌ اسْتَمَعَ الْقُرْآنَ»
ترجمہ
…اور گھوڑا گھر میں بندھا تھا، تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا بدک نہ جائے، اور (میری حاملہ) بیوی ڈر نہ جائے اور اس کا حمل ضائع نہ ہو جائے، چنانچہ میں نے اپنی نماز چھوڑ دی، جب صبح ہوئی تو میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! تلاوت جاری رکھتے، وہ ایک فرشتہ تھا جو قرآن سننے آیا تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 207، حدیث 563
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَقْرَأُ الْبَارِحَةَ سُورَةَ الْكَهْفِ، فَجَاءَ شَيْءٌ حَتَّى غَطَّى فَمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ السَّكِينَةُ جَاءَتْ تَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ»
ترجمہ
…وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں گزشتہ رات سورۃ الکہف کی تلاوت کر رہا تھا کہ کوئی چیز آئی اور میرا منہ ڈھانپ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سکینہ تھی جو قرآن سننے آئی تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 560
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي لَيْلَةٍ قَمِرَةٍ، وَقَدْ أَوْثَقْتُ فَرَسِي، فَجَالَتْ جَوْلَةً، فَفَزِعْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، وَإِذَا ظُلَّةٌ قَدْ غَشِيَتْنِي، وَإِذَا هِيَ قَدْ حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ الْقَمَرِ، فَفَزِعْتُ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ جَاءَتْ تَسْتَمِعُ قُرْآنَكَ آخِرَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ» وَكَانَ أُسَيْدُ حَسَنَ الصَّوْتِ
ترجمہ
…میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک سائبان مجھ پر چھایا ہوا تھا، اور وہ میرے اور چاند کے درمیان حائل ہو چکا تھا، تو میں ڈر گیا اور گھر میں چلا گیا، جب صبح ہوئی تو میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو رات کے آخری حصے میں سورۃ البقرہ کی تمہاری تلاوت سننے آئے تھے۔“ اور سیدنا اسید رضی اللہ عنہ خوش الحان تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 565
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي أُطْلِقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْهُ يَا أَبَا عَتِيكٍ» قَالَ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا الْمَصَابِيحُ مُدَلَّاةٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْرَأْهُ يَا أَبَا عَتِيكٍ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنَّ أَمْضِيَ، قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ»
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک آواز سنی، تو میں نے گمان کیا کہ میرا گھوڑا کھل گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوعتیک! پڑھتے رہو۔“ کہتے ہیں: میں نے مڑ کر دیکھا تو آسمان اور زمین کے درمیان چراغ لٹکے ہوئے تھے، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے ابوعتیک! پڑھتے رہو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ میں آگے بڑھنے کی ہمت نہ رہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو سورۃ البقرہ کی تلاوت سننے کے لیے اترے تھے، سن لو، اگر تم آگے بڑھتے تو عجیب چیزیں دیکھتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 562
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 566
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 563
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 567
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ، وَكَانَ طَبِيبًا، قَالَ: قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ قَالَ: أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي، فَقَالُوا: كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: «نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا، وَإِنْ عَادَ اللهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ» فَقُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ عَنَّا خَيْرًا، قَالَ: «وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»
ترجمہ
…انہوں نے مجھے دو باتیں بتائیں، فرمایا: میری قوم میں سے دو گھرانوں کے لوگ میرے پاس آئے اور کہا: ہماری طرف سے رسول اللہ ﷺ سے بات کرو کہ وہ ہمیں اس کھجور میں سے کچھ دے دیں۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہم ہر گھرانے کو ایک حصہ دیں گے، اور اگر اللہ نے ہمیں مزید دیا تو ہم انہیں مزید دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ ہماری طرف سے آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہیں بھی، اے انصار کی جماعت! اللہ میری طرف سے تمہیں جزائے خیر دے، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تم پاکدامن اور صابر لوگ ہو، سن لو، تم میرے بعد (اپنے حقوق میں دوسروں کو) ترجیح دی جاتی دیکھو گے، تو صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 564
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 568