حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي أُطْلِقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْهُ يَا أَبَا عَتِيكٍ» قَالَ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا الْمَصَابِيحُ مُدَلَّاةٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْرَأْهُ يَا أَبَا عَتِيكٍ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنَّ أَمْضِيَ، قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ»
ترجمہ

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک آواز سنی، تو میں نے گمان کیا کہ میرا گھوڑا کھل گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوعتیک! پڑھتے رہو۔“ کہتے ہیں: میں نے مڑ کر دیکھا تو آسمان اور زمین کے درمیان چراغ لٹکے ہوئے تھے، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے ابوعتیک! پڑھتے رہو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ میں آگے بڑھنے کی ہمت نہ رہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو سورۃ البقرہ کی تلاوت سننے کے لیے اترے تھے، سن لو، اگر تم آگے بڑھتے تو عجیب چیزیں دیکھتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 562
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 566