المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أسيد بن حضير رضي الله عنه باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ لِيُضْحِكَهُمْ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ، فَقَالَ: أَصْبِرْنِي، فَقَالَ: «اصْطَبِرْ» ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا، وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ، وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِترجمہ
…وہ کہتے ہیں: وہ (سیدنا اسید رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، اور ان میں مزاح کی عادت تھی، وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے (مزاحاً) ان کے پہلو میں کچونی ماری، تو انہوں نے عرض کیا: مجھے بدلہ لینے دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے لو۔“ انہوں نے کہا: آپ پر قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو گلے لگا لیا اور آپ ﷺ کے پہلو کو بوسہ دینے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں تو یہی چاہتا تھا۔