حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي لَيْلَةٍ قَمِرَةٍ، وَقَدْ أَوْثَقْتُ فَرَسِي، فَجَالَتْ جَوْلَةً، فَفَزِعْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، وَإِذَا ظُلَّةٌ قَدْ غَشِيَتْنِي، وَإِذَا هِيَ قَدْ حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ الْقَمَرِ، فَفَزِعْتُ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ جَاءَتْ تَسْتَمِعُ قُرْآنَكَ آخِرَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ» وَكَانَ أُسَيْدُ حَسَنَ الصَّوْتِ
ترجمہ

…میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک سائبان مجھ پر چھایا ہوا تھا، اور وہ میرے اور چاند کے درمیان حائل ہو چکا تھا، تو میں ڈر گیا اور گھر میں چلا گیا، جب صبح ہوئی تو میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو رات کے آخری حصے میں سورۃ البقرہ کی تمہاری تلاوت سننے آئے تھے۔“ اور سیدنا اسید رضی اللہ عنہ خوش الحان تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 208، حدیث 565