حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا: ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ، وَكَانَ يَقُولُ: " لَوْ أَكُونُ كَمَا أَكُونُ عَلَى حَالٍ مِنْ أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَا شَكَكْتُ فِي ذَلِكَ: حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، أَوْ حِينَ أَسْتَمِعُهُ يُقْرَأُ، وَإِذَا سَمِعْتُ بِخُطْبَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً، وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي سِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا، وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ "
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فاضل ترین لوگوں میں سے تھے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر میں ہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت پر رہوں تو یقیناً جنتیوں میں سے ہوں، اور اس میں مجھے کوئی شک نہیں: جب میں قرآن پڑھتا ہوں، یا جب میں اسے پڑھا جاتا سنتا ہوں، اور جب میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ سنتا ہوں، اور جب میں کسی جنازے میں حاضر ہوتا ہوں - اور میں کبھی کسی جنازے میں حاضر نہیں ہوا مگر میں نے اپنے آپ سے اس کے سوا بات نہیں کی جو اس (میت) کے ساتھ ہونے والا ہے اور جس انجام کی طرف وہ بڑھ رہی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 550
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 205، حدیث 554