المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أسيد بن حضير رضي الله عنه باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، بَيْنَمَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، قَالَ: إِذْ غَشِيَتْنِي مِثْلُ السَّحَابَةِ فِيهَا مِثْلُ الْمَصَابِيحِ، وَالْمَرْأَةُ نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِي وَهِي حَامِلٌ، وَالْفَرَسُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَنْفِرَ الْفَرَسُ، فَتَفْزَعَ الْمَرْأَةُ، فَتُلْقِيَ وَلَدَهَا، فَانْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْتُ، فَقَالَ: «اقْرَأْهُ يَا أُسَيْدُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَلَكٌ اسْتَمَعَ الْقُرْآنَ»ترجمہ
ابوسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، وہ کہتے ہیں: اچانک مجھے بادل جیسی کوئی چیز نے ڈھانپ لیا جس میں چراغوں جیسی روشنی تھی، اور (میری حاملہ) بیوی میرے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، اور گھوڑا گھر میں بندھا تھا، تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا بدک نہ جائے، اور بیوی ڈر نہ جائے اور اس کا حمل ضائع نہ ہو جائے، چنانچہ میں نے اپنی نماز چھوڑ دی۔ جب صبح ہوئی تو میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! تلاوت جاری رکھتے، وہ ایک فرشتہ تھا جو قرآن سننے آیا تھا۔“