المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أسيد بن حضير رضي الله عنه باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ كَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ، فَقَرَأَ لَيْلَةً، وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ، وَابْنُهُ نَائِمٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَقَرَأَ فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَقَرَأَ فَأَدَارَ الْفَرَسُ فِي رِبَاطِهِ، فَانْصَرَفَ، فَأَخَذَ ابْنَهُ وَخَشِيَ أَنْ يَطَأَهُ الْفَرَسُ، فَأَصْبَحَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ أُسَيْدُ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَمْ تَزَلْ يَسْتَمِعُونَ صَوْتَكَ، فَلَوْ قَرَأْتَ أَصْبَحَتْ ظُلَّةٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ، يَتَرَايَاهَا النَّاسُ فِيهَا الْمَلَائِكَةُ»محمود بن لبید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ لوگوں میں قرآن کی سب سے اچھی آواز والوں میں سے تھے۔ ایک رات انہوں نے تلاوت کی، ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا، اور ان کا بیٹا ان کے پہلو میں سویا ہوا تھا۔ گھوڑا اپنی رسی میں گھومنے لگا، انہوں نے (پھر) تلاوت کی تو گھوڑا (پھر) اپنی رسی میں گھومنے لگا، انہوں نے (پھر) تلاوت کی تو گھوڑا (پھر) اپنی رسی میں گھومنے لگا، تو وہ رک گئے، اپنے بیٹے کو اٹھا لیا کیونکہ انہیں خدشہ ہوا کہ گھوڑا اسے کچل نہ دے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ فرشتے برابر تمہاری آواز سنتے رہے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح ہوتے ہوتے آسمان اور زمین کے درمیان ایک سائبان بن جاتا جسے لوگ دیکھ سکتے، اس میں فرشتے ہوتے۔“