المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أسيد بن حضير رضي الله عنه باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: إِذَا سُرِقَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ سَرِقَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا إِذَا وَجَدَهَا، فَكَتَبَ إِلَيَّ مَرْوَانُ بِذَلِكَ، وَأَنَا عَامِلُهُ عَلَى الْيَمَامَةِ، فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَضَى أَنْ إِذَا وَجَدْتَ عِنْدَ الرَّجُلِ غَيْرَ الْمُتَّهَمِ، فَإِنْ شَاءَ سَيِّدُهَا أَخَذَهَا بِالثَّمَنِ، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ» ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَبَعَثَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ: إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ، وَلَا أُسَيْدٌ يَقْضِيَانِ عَلَيَّ فِيمَا وُلِّيتُ، وَلَكِنِّي أَقْضِي عَلَيْكُمَا، فَأَنْفِذْ مَا أَمَرْتُكَ بِهِ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَقْضِي بِهِ أَبَدًا…اگر کسی شخص سے کوئی چیز چوری ہو اور وہ اپنی چوری شدہ چیز پا لے، تو جب وہ اسے پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ مروان نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا، جبکہ میں اس وقت یمامہ پر اس کا عامل تھا، تو میں نے مروان کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جب تم کسی ایسے شخص کے پاس (چوری شدہ چیز) پاؤ جو مشتبہ نہ ہو، تو اگر اس کا مالک چاہے تو قیمت دے کر لے لے، اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے۔ پھر ان کے بعد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی یہی فیصلہ فرمایا۔ مروان نے میرا خط معاویہ کو بھیج دیا، تو معاویہ نے مروان کو لکھا: نہ تم اور نہ اسید مجھ پر میری ولایت میں فیصلہ کر سکتے ہو، بلکہ میں تم دونوں پر فیصلہ کرتا ہوں، لہٰذا جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے اسے نافذ کرو۔ تو مروان نے معاویہ کا خط مجھے بھیج دیا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی اس (فیصلے) کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا۔