المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أسيد بن حضير رضي الله عنه باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ، وَكَانَ طَبِيبًا، قَالَ: قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ قَالَ: أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي، فَقَالُوا: كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: «نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا، وَإِنْ عَادَ اللهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ» فَقُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ عَنَّا خَيْرًا، قَالَ: «وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»ابن شفیع رحمہ اللہ، جو ایک طبیب تھے، کہتے ہیں: میں نے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا عرق النسا (کولہے کی رگ) کاٹا تھا، تو انہوں نے مجھے دو باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا: میری قوم میں سے دو گھرانوں کے لوگ میرے پاس آئے اور کہا: ہماری طرف سے رسول اللہ ﷺ سے بات کرو کہ وہ ہمیں اس کھجور میں سے کچھ دے دیں۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہم ہر گھرانے کو ایک حصہ دیں گے، اور اگر اللہ نے ہمیں مزید دیا تو ہم انہیں مزید دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ ہماری طرف سے آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہیں بھی، اے انصار کی جماعت! اللہ میری طرف سے تمہیں جزائے خیر دے، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تم پاکدامن اور صابر لوگ ہو، سن لو، تم میرے بعد (اپنے حقوق میں دوسروں کو) ترجیح دی جاتی دیکھو گے، تو صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو۔“