کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَخَالَفَهُمَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی زمین میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو، اور جب کسی زمین میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود نہ ہو تو وہاں داخل نہ ہو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے اسی طرح عبدالرحمٰن بن یزید بن تمیم اور سفیان بن حسین نے روایت کیا ہے، جبکہ ابن ابی ذئب نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے اسی طرح عبدالرحمٰن بن یزید بن تمیم اور سفیان بن حسین نے روایت کیا ہے، جبکہ ابن ابی ذئب نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أَخْبَرَ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ بِهَا الطَّاعُونَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ - أَوْ هَذَا السَّقَمَ - عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ لَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» ، قَالَ: فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ ذَلِكَ الْعَامَ
ترجمہ
…کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو، جب وہ شام کے راستے میں تھے اور انہیں یہ خبر پہنچی کہ وہاں طاعون پھیل چکا ہے، نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بتایا: ”یہ بیماری - یا یہ مرض - وہ عذاب ہے جس سے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا، تو جب یہ کسی ایسی زمین میں ہو جہاں تم موجود نہیں ہو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں ہو جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ اسی سال لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم کسی زمین میں اس (طاعون) کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم کسی زمین میں اس (طاعون) کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهَذَا الْوَبَاءِ بِبَلَدٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِهِ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم کسی شہر میں اس وبا کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّكُمُ الْفِرَارُ مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم کسی زمین میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو بھاگنا تمہیں وہاں سے نہ نکالے۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِهِ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم کسی زمین میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ أَهْلَكَ اللهُ بِهِ بَعْضَ الْأُمَمِ، وَقَدْ بَقِيَ فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ يَجِيءُ أَحْيَانًا، وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا، فَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَأْتُوهَا»
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وبا ایک عذاب ہے جس سے اللہ نے کچھ امتوں کو ہلاک کیا، اور اس کا کچھ حصہ زمین میں باقی رہ گیا ہے جو کبھی آتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے۔ تو جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو، اور جب تم کسی زمین میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ۔“
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ - أَوِ السَّقَمَ - رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ فِي الْأَرْضِ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ، وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمُونَ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ اللَّيْثِ
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بیماری - یا مرض - ایک عذاب ہے جس سے تم سے پہلے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا، پھر یہ زمین میں باقی رہ گیا، کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی آ جاتا ہے۔ تو جو کسی زمین میں اس کے بارے میں سنے وہ وہاں نہ جائے، اور جو کسی ایسی زمین میں ہو جہاں یہ پھیل جائے تو اسے بھاگنا وہاں سے نہ نکالے۔“ (یہ الفاظ لیث کی روایت کے ہیں)۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ رِجْزٌ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - أَوْ عَذَابٌ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَلَدٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِبَلَدٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے سامنے طاعون کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر آیا - یا وہ عذاب جو تم سے پہلے لوگوں پر آیا - تو جب تم کسی شہر میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں داخل نہ ہو، اور جب یہ کسی ایسے شہر میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ شَيْءٌ عُذِّبَ بِهِ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ، وَقَدْ بَقِيَتْ فِي الْأَرْضِ مِنْهُ بَقِيَّةٌ، فَتَقَعُ أَحْيَانًا، وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ»
ترجمہ
عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وبا ایسی چیز ہے جس سے تم سے پہلے امتوں کو عذاب دیا گیا، اور اس کا کچھ حصہ زمین میں باقی رہ گیا ہے، جو کبھی پھیلتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے۔ تو جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود نہ ہو تو وہاں داخل نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ رِجْسٌ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَلَدٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِبَلَدٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے سامنے طاعون کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک ناپاکی (عذاب) ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر آیا، تو جب تم کسی شہر میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں داخل نہ ہو، اور جب یہ کسی ایسے شہر میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی زمین میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں داخل نہ ہو، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْفَجْرَ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قَيْدَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرءَأً مُسْلِمًا، فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَهِيَ فِكَاكُهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمِ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ»
قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرءَأً مُسْلِمًا، فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَهِيَ فِكَاكُهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمِ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ»
ترجمہ
…ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اپنے والد سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: رات کا کون سا حصہ (دعا کے لیے) سب سے زیادہ سنا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر کا درمیانی حصہ، پھر نماز فجر پڑھنے تک قبول کی جاتی ہے، پھر کچھ دیر کوئی نماز نہیں جب تک سورج ایک یا دو نیزوں کی مقدار بلند نہ ہو جائے، پھر نماز قبول کی جاتی ہے یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں جب تک سورج زوال نہ کر جائے، پھر نماز قبول کی جاتی ہے یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کی مقدار رہ جائے، پھر کوئی نماز نہیں جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔“
راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس آزاد کرنے والے کی ہر ہڈی کے بدلے اس آزاد کیے جانے والے کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات ہیں، ان دونوں کی دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔“
راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس آزاد کرنے والے کی ہر ہڈی کے بدلے اس آزاد کیے جانے والے کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات ہیں، ان دونوں کی دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ السَّهْمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: افْتَقَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ؟ فَإِنِّي لَمْ أَرَكَ؟ أَلَمْ تَشْهَدِ الصَّلَاةَ؟» قَالَ: بَلَى. وَلَكِنِّي جِئْتُ وَقَدْ ثَبَتَ النَّاسُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، قَالَ: «أَحْسَنْتَ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو نہ پایا تو فرمایا: ”تم کہاں تھے؟ میں نے تمہیں نہیں دیکھا، کیا تم نماز میں شریک نہیں ہوئے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں اس وقت آیا جب لوگ اپنی صفوں میں ٹھہر چکے تھے، اور مجھے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ناپسند ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَامِلُ إِذَا اسْتُعْمِلَ فَأَخَذَ الْحَقَّ وَأَعْطَى الْحَقَّ كَالْمُجَاهِدِ فِي سُبَيْلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عامل (سرکاری کارکن) جب مقرر کیا جائے، اور وہ حق لے اور حق دے، تو وہ اپنے گھر واپس آنے تک اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا ذُؤَيْبٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْهَجِيرِ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ» فَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حُمَيْدٍ عَنِ الْهَجِيرِ، قَالَ: «إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاجرہ کی نماز رات کی نماز میں سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن حمید سے ”ہاجرہ“ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل جائے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حُمَيْدٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «غَيْرُهُ أَوْلَى بِهِ مِنْكَ وَلَكَ نَسَبُهُ»
ترجمہ
…اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بنی ہاشم کے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا: میں رسول اللہ ﷺ کا سب سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو انہوں نے کہا: ”تم سے بڑھ کر کوئی اور اس کا حقدار ہے، البتہ ان کا نسب تمہیں بھی حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَخْزُومِيُّ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ حُسَيْنٍ النَّبِقِيُّ الْمُطَّلِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اسْتُعِزَّ بِأُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ، فَبَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لَهُ: إِنَّ ابْنَتِي قَدِ اسْتُعِزَّ بِهَا، فَبَعَثَ إِلَى ابْنَتِهِ: «لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ وَمَا أَبْقَى» وَاسْتُعِزَّتِ الثَّانِيَةُ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنَتِي قَدِ اسْتُعِزَّ بِهَا، فَبَعَثَ إِلَى ابْنَتَهِ: «للَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى» ثُمَّ كَانَتِ الثَّالِثَةُ، فَجَاءَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَتِ الصِّبْيَةَ إِلَيْهِ، فَإِذَا نَفْسُهَا تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهَا، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ حَتَّى قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَفَطِنَ بِهِمْ وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ رَقَقْتَ. قَالَ: «رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ يَشَاءُ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ غَدًا مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ»
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ میری بیٹی سخت بیمار ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا: ”جو اللہ نے لیا وہ اللہ ہی کا تھا، اور جو باقی رکھا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔“ دوسری بار پھر بیماری شدید ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ میری بیٹی سخت بیمار ہے، تو آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو وہی پیغام بھیجا: ”جو اللہ نے لیا وہ اللہ ہی کا تھا، اور جو باقی رکھا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔“ پھر تیسری بار ایسا ہوا تو نبی کریم ﷺ خود ان کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے بچی کو آپ ﷺ کے سامنے لا کر پیش کیا، جبکہ اس کی جان اس کے سینے میں کھڑکھڑا رہی تھی، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی تھے۔ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی داڑھی مبارک تھام لی۔ آپ ﷺ کو محسوس ہوا کہ صحابہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا، تم دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ رقت آمیز ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جسے اللہ عزوجل جہاں چاہتا ہے رکھتا ہے، اور اللہ کل قیامت کے دن اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر رحم فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا} [آل عمران: ١٥٤] قَالَ: «أُلْقِيَ عَلَيْنَا النَّوْمُ يَوْمَ أُحُدٍ»
ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان: ”پھر اس نے غم کے بعد تم پر امن کی نیند نازل فرمائی“ [آل عمران: 154] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”احد کے دن ہم پر نیند طاری کر دی گئی تھی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِيرُ الْفِقْهِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ أَيْسَرُهَا»
ترجمہ
…ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اپنے والد سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تھوڑا سمجھ بوجھ (دین کا) بہت زیادہ عبادت سے بہتر ہے، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر وہ ہیں جو سب سے آسان ہوں۔“
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا آدَمُ، عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَلَّمَ طَلْحَةُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ بِشَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا طَلْحَةُ، فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا كَمَا شَهِدْتَهُ، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِمَوَالِيهِ»
ترجمہ
…ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: طلحہ نے عامر بن فہیرہ سے کوئی سخت بات کہی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ذرا رکو، اے طلحہ! اس نے بھی بدر میں شرکت کی جیسے تم نے کی، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے غلاموں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ثنا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ الشَّيْطَانُ - لَعَنَهُ اللهُ -: لَنْ يَسْلَمَ مِنِّي صَاحِبُ الْمَالِ مِنْ إِحْدَى ثَلَاثٍ، أَغْدُو عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَرُوحُ بِهِنَّ: أَخْذُهُ الْمَالَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ، وَإِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، وَأُحَبِّبُهُ إِلَيْهِ فَيَمْنَعُهُ مِنْ حَقِّهِ "
ترجمہ
…ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان - اللہ اس پر لعنت کرے - نے کہا: مال والا شخص مجھ سے تین باتوں میں سے کسی ایک سے نہیں بچے گا، میں صبح و شام اسی کے پیچھے لگا رہتا ہوں: یا تو وہ مال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرے، یا اسے ناحق جگہ خرچ کرے، یا میں اسے اس مال کا اتنا محبوب بنا دوں کہ وہ اس کا حق ادا کرنے سے رک جائے۔“