المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه — ومما أسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه، وذكر الاختلاف في حديث الزهري في الطاعون باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْفَجْرَ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قَيْدَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرءَأً مُسْلِمًا، فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَهِيَ فِكَاكُهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمِ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ»…ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اپنے والد سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: رات کا کون سا حصہ (دعا کے لیے) سب سے زیادہ سنا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر کا درمیانی حصہ، پھر نماز فجر پڑھنے تک قبول کی جاتی ہے، پھر کچھ دیر کوئی نماز نہیں جب تک سورج ایک یا دو نیزوں کی مقدار بلند نہ ہو جائے، پھر نماز قبول کی جاتی ہے یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں جب تک سورج زوال نہ کر جائے، پھر نماز قبول کی جاتی ہے یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کی مقدار رہ جائے، پھر کوئی نماز نہیں جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔“
راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس آزاد کرنے والے کی ہر ہڈی کے بدلے اس آزاد کیے جانے والے کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات ہے، اس کی ہر ہڈی کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔ اور جو بھی مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات ہیں، ان دونوں کی دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی بچائی جائے گی۔“