المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه — ومما أسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه، وذكر الاختلاف في حديث الزهري في الطاعون باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 271
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ أَهْلَكَ اللهُ بِهِ بَعْضَ الْأُمَمِ، وَقَدْ بَقِيَ فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ يَجِيءُ أَحْيَانًا، وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا، فَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَأْتُوهَا»ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وبا ایک عذاب ہے جس سے اللہ نے کچھ امتوں کو ہلاک کیا، اور اس کا کچھ حصہ زمین میں باقی رہ گیا ہے جو کبھی آتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے۔ تو جب یہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو، اور جب تم کسی زمین میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ۔“