المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه — ومما أسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه، وذكر الاختلاف في حديث الزهري في الطاعون باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ رِجْزٌ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - أَوْ عَذَابٌ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَلَدٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِبَلَدٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»ترجمہ
…سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے سامنے طاعون کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر آیا - یا وہ عذاب جو تم سے پہلے لوگوں پر آیا - تو جب تم کسی شہر میں اس کے بارے میں سنو تو وہاں داخل نہ ہو، اور جب یہ کسی ایسے شہر میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“