المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه — ومما أسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه، وذكر الاختلاف في حديث الزهري في الطاعون باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أَخْبَرَ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ بِهَا الطَّاعُونَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ - أَوْ هَذَا السَّقَمَ - عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ لَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» ، قَالَ: فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ ذَلِكَ الْعَامَترجمہ
…کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو، جب وہ شام کے راستے میں تھے اور انہیں یہ خبر پہنچی کہ وہاں طاعون پھیل چکا ہے، نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بتایا: ”یہ بیماری - یا یہ مرض - وہ عذاب ہے جس سے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا، تو جب یہ کسی ایسی زمین میں ہو جہاں تم موجود نہیں ہو تو وہاں مت جاؤ، اور جب یہ کسی ایسی زمین میں ہو جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ اسی سال لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے۔