المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه — ومما أسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه، وذكر الاختلاف في حديث الزهري في الطاعون باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات، اور زہری کی طاعون والی حدیث میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ السَّهْمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: افْتَقَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ؟ فَإِنِّي لَمْ أَرَكَ؟ أَلَمْ تَشْهَدِ الصَّلَاةَ؟» قَالَ: بَلَى. وَلَكِنِّي جِئْتُ وَقَدْ ثَبَتَ النَّاسُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، قَالَ: «أَحْسَنْتَ»ترجمہ
…سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو نہ پایا تو فرمایا: ”تم کہاں تھے؟ میں نے تمہیں نہیں دیکھا، کیا تم نماز میں شریک نہیں ہوئے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں اس وقت آیا جب لوگ اپنی صفوں میں ٹھہر چکے تھے، اور مجھے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ناپسند ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“