کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «وُلِدُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَعْدَ الْفِيلِ بِعَشْرِ سِنِينَ، وَمَاتَ سَنَةَ إِحْدَى أَوْ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، وَسِنُّهُ خَمْسٌ وَسَبْعونَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَقُولُ: «اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَتَها، وَسَبَقْتَ رَنْقَهَا»
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَقُولُ: «اذْهَبْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَدْ ذَهَبْتَ بِبِطْنَتِكَ لَمْ تَنْتَقِصْ مِنْهَا بِشَيْءٍ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ عام الفیل کے دس سال بعد پیدا ہوئے، اور سنہ 31 یا 32 ہجری میں وفات پائی، اس وقت ان کی عمر پچھتر (75) سال تھی، اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
ابراہیم بن سعد اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو، جس دن عبدالرحمٰن بن عوف کا انتقال ہوا، یہ کہتے سنا: ”جا اے ابن عوف! تو نے اس دنیا کی صفائی پا لی اور اس کی کدورت سے پہلے ہی نکل گیا۔“
انہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو، جس دن عبدالرحمٰن بن عوف کا انتقال ہوا، یہ کہتے سنا: ”جا اے عبدالرحمٰن بن عوف! تو اپنا بھرپور حصہ (اجر) لے کر گیا، اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 261
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 128، حدیث 262
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي بَيْتِهَا، إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا رُجَّتْ مِنْهُ الْمَدِينَةُ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا عِيرٌ قَدِمَتْ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنَ الشَّامِ، وَكَانَتْ سَبْعَمِائَةِ رَاحِلَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهَا فَسَأَلَهَا عَمَّا بَلَغَهُ فَحَدَّثَتْهُ قَالَ: «فَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنَّهَا بِأَحْمَالِها وَأَقْتَابِهَا، وَأَحْلَاسِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں تھیں کہ انہوں نے ایک ایسی آواز سنی جس سے مدینہ لرز اٹھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عبدالرحمٰن بن عوف کے لیے شام سے آنے والا قافلہ ہے، جو سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سن لو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: ”میں نے عبدالرحمٰن بن عوف کو گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے دیکھا۔“ یہ بات عبدالرحمٰن تک پہنچی تو وہ ان کے پاس آئے اور جو بات انہیں پہنچی تھی اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے انہیں پوری بات بتائی۔ عبدالرحمٰن نے کہا: ”تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ قافلہ اپنے بوجھ، اپنے کجاووں اور اپنے سامان سمیت اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 262
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 129، حدیث 264
حَّدَثَنا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «تَصَدَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِشَطْرِ مَالِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى خَمْسِمِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى أَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ رَاحِلَةٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَكَانَ عَامَّةُ مَالِهِ مِنَ التِّجَارَةِ»
ترجمہ
زہری کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے مال کا آدھا حصہ، یعنی چار ہزار، صدقہ کیا، پھر چالیس ہزار صدقہ کیا، پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کیا، پھر پانچ سو گھوڑے اللہ کی راہ میں دیے، پھر ڈیڑھ ہزار اونٹ اللہ کی راہ میں دیے۔ اور ان کا زیادہ تر مال تجارت سے تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 263
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 129، حدیث 265