حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَخْزُومِيُّ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ حُسَيْنٍ النَّبِقِيُّ الْمُطَّلِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اسْتُعِزَّ بِأُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ، فَبَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لَهُ: إِنَّ ابْنَتِي قَدِ اسْتُعِزَّ بِهَا، فَبَعَثَ إِلَى ابْنَتِهِ: «لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ وَمَا أَبْقَى» وَاسْتُعِزَّتِ الثَّانِيَةُ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنَتِي قَدِ اسْتُعِزَّ بِهَا، فَبَعَثَ إِلَى ابْنَتَهِ: «للَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى» ثُمَّ كَانَتِ الثَّالِثَةُ، فَجَاءَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَتِ الصِّبْيَةَ إِلَيْهِ، فَإِذَا نَفْسُهَا تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهَا، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ حَتَّى قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَفَطِنَ بِهِمْ وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ رَقَقْتَ. قَالَ: «رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ يَشَاءُ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ غَدًا مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ»
ترجمہ

…رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ میری بیٹی سخت بیمار ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا: ”جو اللہ نے لیا وہ اللہ ہی کا تھا، اور جو باقی رکھا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔“ دوسری بار پھر بیماری شدید ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ میری بیٹی سخت بیمار ہے، تو آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو وہی پیغام بھیجا: ”جو اللہ نے لیا وہ اللہ ہی کا تھا، اور جو باقی رکھا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔“ پھر تیسری بار ایسا ہوا تو نبی کریم ﷺ خود ان کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے بچی کو آپ ﷺ کے سامنے لا کر پیش کیا، جبکہ اس کی جان اس کے سینے میں کھڑکھڑا رہی تھی، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی تھے۔ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی داڑھی مبارک تھام لی۔ آپ ﷺ کو محسوس ہوا کہ صحابہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا، تم دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ رقت آمیز ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جسے اللہ عزوجل جہاں چاہتا ہے رکھتا ہے، اور اللہ کل قیامت کے دن اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر رحم فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 282
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 135، حدیث 284