کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: توبہ اور اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرَهُ رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَقَالُوا : أَنْفُسُنَا لَكَ الْفِدَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ يَقُومُ بِهَذِهِ الشَّدَائِدِ وَكَيْفَ الْعَيْشُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ : " وَأَنْتُمْ فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، نَازَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أُمَّتِي فَقَالَ لِي : بَابُ التَّوْبَةِ مَفْتُوحٌ حَتَّى يُنْفَخَ فِي الصُّورِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَنَةٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَهْرٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِجُمُعَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُمُعَةٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَاعَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ يُغَرْغِرَ بِالْمَوْتِ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ نَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا
دَاوُدُ وَشَيْخُهُ مَعْرُوفَانِ بِالْوَضْعِ .
دَاوُدُ وَشَيْخُهُ مَعْرُوفَانِ بِالْوَضْعِ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا (راوی نے پوری حدیث تفصیل سے ذکر کی)، پھر جب آپ ﷺ منبر سے نیچے اترنے لگے تو انصار رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ نے آپ ﷺ کے منبر سے مکمل نیچے اترنے سے پہلے ہی آپ کی طرف لپک کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں آپ پر فدا ہوں، ان سختیوں کی تاب کون لا سکے گا اور اس (ہولناک) دن کے تذکرے کے بعد زندگی کیسی ہوگی؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اور تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں نے اپنی امت کے معاملے میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے خوب التجا کی تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک کہ صور نہ پھونک دیا جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تو بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ماہ بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک ہفتہ قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ہفتہ بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے موت کا غرغرہ (نزع کی ہچکی) شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور یہ آپ ﷺ کا آخری خطبہ تھا جو آپ نے ارشاد فرمایا۔
داؤد (بن محبر) اور ان کے استاد (میسرہ) دونوں ہی حدیثیں گھڑنے کے حوالے سے معروف ہیں۔
داؤد (بن محبر) اور ان کے استاد (میسرہ) دونوں ہی حدیثیں گھڑنے کے حوالے سے معروف ہیں۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ ; فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ " .
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے پروردگار عز و جل کے حضور توبہ و انابت اختیار کرو، کیونکہ میں خود ہر روز ستر مرتبہ یا ستر سے بھی زیادہ بار اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“
یہ روایت مرسل ہے، تاہم توبہ و استغفار کی کثرت کے متعلق اس کا مفہوم صحیح احادیث سے ثابت اور مستند ہے۔
یہ روایت مرسل ہے، تاہم توبہ و استغفار کی کثرت کے متعلق اس کا مفہوم صحیح احادیث سے ثابت اور مستند ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً .
3254 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ قَالَ : سَمِعْتُ مُعْتَمِرًا ، بِهِ .
3254 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مِثْلَهُ ، لَكِنْ قَالَ : " مِائَةَ مَرَّةٍ " .
3254 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ قَالَ : سَمِعْتُ مُعْتَمِرًا ، بِهِ .
3254 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مِثْلَهُ ، لَكِنْ قَالَ : " مِائَةَ مَرَّةٍ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں دن میں ستر مرتبہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں۔“
امام ابو یعلیٰ کی روایت کردہ اس حدیث کو ابو الاشعث نے بھی معتمر سے انہی کے طریق سے بیان کیا ہے، نیز امام بزار نے بھی اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ستر کے بجائے ”سو مرتبہ“ کے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔
امام ابو یعلیٰ کی روایت کردہ اس حدیث کو ابو الاشعث نے بھی معتمر سے انہی کے طریق سے بیان کیا ہے، نیز امام بزار نے بھی اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ستر کے بجائے ”سو مرتبہ“ کے الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ تَعَالَى أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الَّذِي قَدْ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ ، فَسَعَى فِي بُغَائِهَا يَمِينًا وَشِمَالًا ، حَتَّى أَعْيَى أَوْ أَيِسَ مِنْهَا وَإِذْ قَدْ هَلَكَ نَظَرَ فَوَجَدَهَا فِي مَكَانٍ لَمْ يَكُنْ يَرْجُو أَنْ يَجِدَهَا فِيهِ ، فَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُسْرِفِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ حِينَ وَجَدَهَا " .
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی توبہ پر، جس نے (گناہوں کے ارتکاب سے) اپنی جان پر حد سے زیادہ زیادتی کی ہو، اس شخص سے بھی کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی (دورانِ سفر) اپنی سواری گم ہوگئی ہو، پھر وہ اسے تلاش کرنے کی تگ و دو میں دائیں بائیں ہر طرف بھاگا دوڑا ہو یہاں تک کہ وہ تھک کر نڈھال ہو گیا یا اس کے ملنے سے بالکل ناامید ہو گیا، اور جب وہ (شدتِ پیاس و بھوک سے) ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تو اچانک اس کی نظر پڑی اور اس نے اپنی سواری کو ایک ایسی جگہ پایا جہاں اسے اس کے ملنے کی قطعاً کوئی امید نہ تھی؛ پس اللہ عزوجل اپنے گناہ گار بندے کی توبہ پر اس شخص کی اس خوشی سے بھی کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو اسے اپنی سواری کے مل جانے پر ہوئی تھی۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام رجال ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام رجال ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمُهَاجِرِ أَوْ أَبُو عَبْدِ رَبٍّ شَكَّ الْوَلِيدُ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَقِيَ رَجُلًا عَالِمًا أَوْ عَابِدًا فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهَا يَقْتُلُهَا ظُلْمًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلُّهَا يَقْتُلُهَا ظُلْمًا ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَئِنْ قُلْتُ لَكَ : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ لَقَدْ كَذَبْتُ ، هَاهُنَا دَيْرٌ فِيهِ قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ فَأْتِهِمْ فَاعْبُدِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ ، لَعَلَّ اللهَ تَعَالَى يَتُوبُ عَلَيْكَ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ ، فَاخْتَصَمَ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى مَلَكًا أَنْ قِيسُوا مَا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ ، فَإِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ فَهُوَ مِنْهُمْ ، فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأُنْمُلَةٍ ، فَغَفَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ " .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں ایک شخص تھا جو کسی عالم یا عابد سے ملا اور اس سے کہا کہ اس نے ننانوے انسانوں کو سراسر ظلم و زیادتی کی بنیاد پر قتل کیا ہے، کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی صورت پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تو اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا، پھر وہ ایک اور شخص سے ملا اور کہا کہ اس نے سو جانیں ناحق قتل کی ہیں، تو کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش پاتے ہو؟ اس نے جواب دیا: اگر میں تجھ سے یہ کہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول نہیں فرماتا جو توبہ کر لے تو یقیناً میں نے جھوٹ کہا، یہاں ایک عبادت گاہ ہے جس میں کچھ لوگ اللہ کی بندگی میں مشغول ہیں، تم ان کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر اللہ عزوجل کی عبادت کرو، شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرما لے، چنانچہ وہ ان کی طرف روانہ ہوا مگر ابھی وہاں پہنچا نہیں تھا کہ اسے موت نے آ لیا، اس پر عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہو گیا، تب اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا (جس نے حکم دیا) کہ تم دونوں مقامات کے درمیانی فاصلے کی پیمائش کرو، وہ جس بستی کے زیادہ قریب پایا گیا وہ انہی لوگوں میں شمار ہو گا، جب انہوں نے فاصلہ ناپا تو اسے توبہ کرنے والوں کی عبادت گاہ سے ایک پورے کے برابر زیادہ قریب پایا، پس اللہ عزوجل نے اس کی مغفرت فرما دی۔“
تخریج: اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
تخریج: اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يَتَعَاظَمُهُ ذَنْبٌ غَفَرَهُ ، إِنَّ رَجُلًا كَانَ قَبْلَكُمْ قَتَلَ ثَمَانِيَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَأَتَى رَاهِبًا فَقَالَ لَهُ : قَتَلْتُ ثَمَانِيَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَتَى آخَرَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ أَسْرَفْتَ وَمَا أَدْرِي ، وَلَكِنْ هَاهُنَا قَرْيَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُقَالُ لَهَا : نَضْرَةُ ; أَهْلُهَا يَعْمَلُونَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَا يَثْبُتُ فِيهِمْ غَيْرُهُمْ ، وَالْأُخْرَى يُقَالُ لَهَا : كَفْرَةُ ; أَهْلُهَا يَعْمَلُونَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ لَا يَثْبُتُ فِيهِمْ غَيْرُهُمْ ، فَانْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ نَضْرَةَ فَإِنْ عَمِلْتَ عَمَلَهُمْ وَتُبْتَ فَلَا تَشُكَّ فِي تَوْبَتِكَ ، فَانْطَلَقَ يُرِيدُهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَدْرَكَهُ أَجَلُهُ ، فَسَأَلَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ رَبَّهَا ، قَالَ جَلَّ وَعَلَا : انْظُرُوا أَيَّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَاكْتُبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى نَضْرَةَ بِقَدْرِ أُنْمُلَةٍ فَكَتَبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی گناہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اسے معاف نہ کر سکے، یقیناً تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص ایسا تھا جس نے اٹھانوے انسانوں کو قتل کیا تھا۔ پھر وہ ایک عابد کے پاس آیا اور اس سے سوال کیا کہ میں نے اٹھانوے جانیں قتل کی ہیں، کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش پاتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں، تو اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر وہ ایک دوسرے عابد کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ اس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا ہے، کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی سبیل پاتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں، تو اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر وہ ایک اور عالم کے پاس آیا اور اسے خبر دی کہ اس نے سو جانیں قتل کر دی ہیں، تو کیا تم میرے لیے توبہ کا کوئی امکان پاتے ہو؟ اس نے کہا کہ تم نے واقعی بہت زیادہ زیادتی کی ہے اور مجھے تمہارے معاملے کا حتمی علم نہیں، لیکن یہاں دو بستیاں ہیں، ان میں سے ایک کا نام نضرہ یعنی خوشحالی والی ہے، اس کے رہنے والے اہل جنت جیسے عمل کرتے ہیں اور ان میں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں ٹھہرتا، اور دوسری بستی کا نام کفرہ یعنی بدبختی والی ہے، اس کے باسی اہل دوزخ جیسے کام کرتے ہیں اور ان میں بھی ان کے سوا کوئی اور قیام نہیں کرتا، پس تم نضرہ والوں کی طرف چلے جاؤ، اگر تم نے ان جیسے اعمال کیے اور توبہ کر لی تو اپنی توبہ کی قبولیت میں ہرگز شک نہ کرنا۔ چنانچہ وہ شخص اس بستی کے ارادے سے چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ دونوں بستیوں کے درمیانی فاصلے پر پہنچا تو اس کی موت کا وقت آ پہنچا، پس فرشتوں علیہم السلام نے اپنے رب سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ جل وعلا نے ارشاد فرمایا: دیکھو کہ وہ کس بستی کے زیادہ قریب تھا، اسے اسی بستی کے رہنے والوں میں لکھ دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے انگلی کے ایک پورے کے برابر نضرہ بستی کے زیادہ قریب پایا، پس انہوں نے اسے اسی بستی والوں میں لکھ دیا۔“
اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی راوی حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے جو اس کے متن کی شاہد اور اسے تقویت دینے والی ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی راوی حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے جو اس کے متن کی شاہد اور اسے تقویت دینے والی ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ : سَبْعَةٌ مُغْلَقَةٌ ، وَبَابٌ مَفْتُوحٌ لِلتَّوْبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ " .
3258 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
3258 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے سات دروازے (فی الوقت) بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے، یہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک کہ سورج اسی سمت (یعنی مغرب) سے طلوع نہ ہو جائے۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ موصلی نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ ہی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ موصلی نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ ہی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : حَمَلَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلْفَهُ ثُمَّ سَارَ بِي فِي جَبَّانَةٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيَّ فَضَحِكَ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اسْتِغْفَارُكَ رَبَّكَ وَالْتِفَاتُكَ إِلَيَّ تَضْحَكُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : جَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ثُمَّ سَارَ بِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُكَ " . ثُمَّ الْتَفَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَضَحِكَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اسْتِغْفَارُكَ رَبَّكَ وَالْتِفَاتُكَ إِلَيَّ تَضْحَكُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَحِكْتُ لِضَحِكِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِعَجَبِهِ لِعَبْدِهِ أَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُهُ " .
ترجمہ
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر وہ مجھے لے کر ایک قبرستان کی جانب چلے، پھر انہوں نے اپنا سرِ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، یقیناً تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے“۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکرانے لگے، تو میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ اپنے رب سے مغفرت طلب کر رہے ہیں اور پھر میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (دراصل) رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا، پھر آپ ﷺ مجھے لے کر حرہ (مدینہ کے پتھریلے علاقے) کی ایک جانب تشریف لے گئے، پھر آپ ﷺ نے اپنا سرِ انور آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا فرمائی: ”«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُكَ»“ ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، کیوں کہ تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے“۔ پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے رب سے بخشش کی دعا بھی کر رہے ہیں اور میری طرف دیکھ کر مسکرا بھی رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنے رب عزوجل کے تبسم (خوشی) فرمانے کی وجہ سے مسکرایا ہوں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی اس بات پر (نہایت خوش ہوتے ہوئے) تعجب فرماتا ہے کہ اسے اس بات کا علم اور مکمل یقین ہے کہ میرے سوا اس کے گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے“۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، نیز اسے امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، نیز اسے امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ فَقَالَ : " مَا أَصْبَحْتُ غَدَاةً قَطُّ إِلَّا اسْتَغْفَرْتُ اللهَ تَعَالَى فِيهَا مِائَةَ مَرَّةٍ " .
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے درآنحالیکہ ہم (ایک مجلس میں) بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری کبھی کوئی ایسی صبح نہیں ہوئی جس میں میں نے سو مرتبہ «اسْتَغْفَرْتُ اللهَ تَعَالَى» ”اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب“ نہ کی ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفُورِ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالِاسْتِغْفَارِ فَأَكْثِرُوا مِنْهُمَا ; فَإِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ : أَهْلَكْتُ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ ، فَأَهْلَكُونِي بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالِاسْتِغْفَارِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَهْلَكْتُهُمْ بِالْأَهْوَاءِ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ " .
ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لو اور ان دونوں کا کثرت سے ورد کیا کرو؛ کیونکہ ابلیس نے (حسرت سے) کہا ہے: میں نے لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کر کے ہلاک (برباد) کرنا چاہا مگر انہوں نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور استغفار کے ذریعے مجھے ہی ہلاک (ناکام و نامراد) کر ڈالا، پس جب میں نے یہ صورتحال دیکھی تو میں نے انہیں نفسانی خواہشات اور بدعات کے ذریعے ہلاک کرنا شروع کیا حالانکہ وہ (اپنی جہالت کی وجہ سے) یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (3261) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الغفور بن سعید اور عثمان بن مطر ضعیف راوی ہیں، جس کی بنا پر محدثین کے نزدیک یہ روایت سنداؐ ضعیف ہے۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (3261) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الغفور بن سعید اور عثمان بن مطر ضعیف راوی ہیں، جس کی بنا پر محدثین کے نزدیک یہ روایت سنداؐ ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَخَاضُوا فِي حَدِيثٍ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا إِلَّا غَفَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ مَا خَاضُوا فِيهِ " .
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں (دنیاوی یا عام) گفتگو میں مشغول ہوئے، پھر اس محفل سے برخاست ہونے سے قبل انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے مغفرت طلب کر لی، تو اللہ عزوجل ان کی ان تمام باتوں کے وبال کو معاف فرما دیتا ہے جن میں وہ منہمک رہے تھے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، تاہم اس کی سند میں جعفر بن زبیر نامی راوی ضعیف ہے، البتہ مجلس کے اختتام پر استغفار کی فضیلت دیگر مستند اور صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، تاہم اس کی سند میں جعفر بن زبیر نامی راوی ضعیف ہے، البتہ مجلس کے اختتام پر استغفار کی فضیلت دیگر مستند اور صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ : " إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ وَإِنْ كَانَ قَلِيلَ الْعِلْمِ ، وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعَاصِي شَيْئًا وَإِنْ صَغُرَ فِي أَعْيُنِكُمْ ، فَإِنَّهُ لَا صَغِيرَ مَعَ الْإِصْرَارِ وَلَا كَبِيرَ مَعَ اسْتِغْفَارٍ ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَائِلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ حَتَّى عَنْ مَسِّ أَحَدِكُمْ ثَوْبَ أَخِيهِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْعَبْدَ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ، فَقَدْ خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، فَمَنِ اخْتَارَ النَّارَ عَلَى الْجَنَّةِ فَأَبْعَدَهُ اللهُ تَعَالَى ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَدَعْ شَيْئًا نَهَى عَنْهُ إِلَّا وَقَدْ بَيَّنَهُ لَكُمْ لِيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ " الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقی عالم تو وہی ہے جو اپنے علم کے مطابق عمل کرے، خواہ اس کا علم قلیل ہی کیوں نہ ہو، اور تم گناہوں میں سے کسی بھی نافرمانی کو ہرگز معمولی و حقیر نہ سمجھو اگرچہ وہ تمہاری نظروں میں چھوٹی ہی دکھائی دے، کیونکہ اصرار اور مداومت کی صورت میں کوئی گناہ صغیر (چھوٹا) نہیں رہتا اور توبہ و استغفار کی موجودگی میں کوئی گناہ کبیرہ (بڑا) نہیں رہتا۔ آگاہ رہو! اللہ تبارک و تعالیٰ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں باز پرس کرنے والا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کے کپڑے کو (بغیر ضرورت) چھونے کے متعلق بھی سوال ہو گا، اور یہ جان لو کہ ہر بندے کو قیامت کے دن اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی تھی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا فرمایا ہے، پس جس شخص نے جنت کے مقابلے میں آگ کا انتخاب کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور فرما دے۔ خبردار! اللہ عزوجل نے جس کام سے بھی منع فرمایا ہے اسے تمہارے لیے مکمل طور پر واضح کر دیا ہے تاکہ ﴿لِيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ﴾ [سورة الأنفال: 42] ”جو زندہ رہے وہ بھی روشن دلیل (حق واضح ہونے) کے بعد زندہ رہے اور جو ہلاک ہو وہ بھی روشن دلیل کے بعد ہلاک ہو“۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے راویوں کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) قرار دی گئی ہے۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے راویوں کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) قرار دی گئی ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ الْمَاصِرُ ، عَنْ دَاوُدَ الْبَصْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ذَنْبًا قَدِ اعْتَادَهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ ، أَوْ ذَنْبًا لَيْسَ بِتَارِكِهِ حَتَّى يَمُوتَ ، أَوْ تَقُومَ عَلَيْهِ السَّاعَةُ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُذْنِبًا مُفَتَّنًا خَطَّاءً نَسِيًّا ، فَإِنْ ذُكِّرَ ذَكَرَ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک ہر مومن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کا وہ وقتاً فوقتاً عادی ہو چکا ہوتا ہے، یا پھر وہ ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ اپنی موت تک یا اس وقت تک نہیں چھوڑ پاتا جب تک اس پر قیامت قائم نہ ہو جائے؛ حقیقت یہ ہے کہ مومن پیدا ہی ایسا کیا گیا ہے کہ وہ آزمائش میں پڑنے والا، کثرت سے خطائیں کرنے والا اور بہت زیادہ بھولنے والا ہے، لیکن جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل کر لیتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔